ہرنائی میں سانحہ خوست اور 14 اگست واقعہ کیخلاف احتجاج کے 24 ویں روز مکمل شٹر بند
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ہرنائی میں سانحہ خوست اور 14 اگست کے واقعہ میں نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابر کی موت اور دیگر کو زخمی کرنے کیخلاف اور عوامی مطالبات کی حق میں جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں دھرنا کمیٹی اور سیاسی پارٹیوں کی اپیل پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی۔ تاجروں، دکانداروں نے خوست دھرنا اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تمام کاروبار بند رکھا جبکہ دھرنا کمیٹی اور سیاسی پارٹیوں کے زیر اہتمام ضلع ہرنائی کے انتظامی سربراہ ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے دھرنا دیا گیا۔ جس میں سیاسی رہنماؤں و کارکنوں، تاجروں، کول مائینز اونرز، عوام اور نوجوانوں نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کو عوامی مطالبات پر مبنی یاداشت پیش کی گئی۔دھرنے سے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر اور دھرنا کمیٹی کے رہنما احمد جان خان، عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر اور دھرنا کمیٹی کے رہنما ولی داد میانی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ضلعی ڈپٹی سیکرٹری عنایت اللہ، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما وہاب خان کاکڑ، تحریک انصاف کے ضلعی صدر صدام ترین، جمعیت علما اسلام کے تحصیل امیر مولوی عزیز اللہ، ہرنائی بار ایسوسی ایشن کے نقیب اللہ ایڈووکیٹ، خالقداد بابر کے بھائی اللہ داد بابر اور دیگر سیاسی رہنماؤں فضل افغان، شینگل خان، حفیظ اللہ شاہ، کلیم اللہ، اسد اللہ شاہ، ملک عاصم، میر وائس شاہ، حافظ احسان الحق اور یوسف شاہ نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ 14 اگست کو خوست میں فورسز کی فائرنگ سے نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابر کی موت اور دیگر کو زخمی کرنے کے واقعہ کیخلاف احتجاجی تحریک اور دھرنے کا آج 24واں دن ہے لیکن حکومت اور انتظامیہ نے عوام اور احتجاجی تحریک کے آئینی و قانونی اور جمہوری مطالبات پر مجرمانہ خاموشی اور سرد مہری کا طرز عمل جاری رکھا ہے اور آج بھی ضلع ہرنائی میں سیکورٹی فورسز نے دہشت، خوف و ہراس مسلط رکھی ہے۔ ضلع کے کول مائنز پر بھتہ گیری مسلط ہے، اکثر کول مائنز کو بھتہ گیری کی بنیاد پر بند کیا گیا ہے۔ عوامی آبادی میں سیکورٹی فورسز کے مورچوں سے بھاری اسلحے سے گولہ باری جاری ہے، ڈرون کیمروں کے ذریعے چادر چاردیواری کے تقدس کی پامالی ہو رہی ہے، ضلعی انتظامیہ مفلوج اور بے اثر ہے۔ ایسی صورتحال میں ضلع ہرنائی کے عوام اور دھرنا کمیٹی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جمہوری احتجاجی تحریک کو مزید وسعت اور سخت کرکے مطالبات کی حل تک اسے جاری رکھیں گیکیونکہ موجودہ اذیت ناک صورتحال میں ضلع میں تمام کاروبار و تجارت، سیاست اور پورا معاشرہ سنگین خطرات سے دوچار ہے اور قتل و غارتگری، ماہانہ کروڑوں روپے کی بھتہ گیری کے ساتھ ساتھ پورے ضلع کے عوام سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ مقررین نے کہا کہ ضلع ہرنائی کے عوام اور خوست دھرنے کی حمایت میں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے پورے جنوبی پشتونخوا میں احتجاجی تحریک جاری ہے جو مطالبات کے حل تک جاری رہے گی۔ مقررین نے کہا کہ خوست واقعے سمیت پشتونخوا وطن میں جاری ٹارگٹ کلنگ، اغوا، بھتہ گیری کوئی حادثاتی واقعات نہیں بلکہ ملک کے استعماری و آمرانہ قوتوں کی پشتون دشمن پالیسیوں اور پلان کے تحت ان کی سرپرستی میں یہ واقعات جاری ہیں، یہی وجہ ہے کہ پشتونخوا وطن کے طول و عرض میں عوام کی جمہوری مزاحمتی تحریکیں شروع ہوئی ہیں اور پشتونخوا وطن کے عوام کو یہ شعور اور ادراک حاصل ہوا ہے کہ یہ سب کچھ پشتون دشمن ریاستی پالیسیوں کا تسلسل ہے اور یہ جمہوری مزاحمتی تحریکیں یکجا ہوکر پشتون قومی نجات کی جمہوری مزاحمتی تحریک میں تبدیل ہوگی جس کا راستہ روکنا ان استعماری اور پشتون دشمن ریاستی قوتوں کے بس کی بات نہیں۔


