نوکنڈی سمیت چاغی میں بیروزگاری میں اضافہ، تعلیم یافتہ نوجوانوں مایوسی کا شکار
نوکنڈی (انتخاب نیوز) نوکنڈی سمیت ضلع چاغی میں بیروزگاری کی شرح روز بروز بڑھ جانے سے تعلیم یافتہ نوجوانوں مایوسی اور دیگر معاشرتی مسائل سے دوچار ہیں فوری سدباب کرکے روزگار کے زیادہ سے زیادہ ذرائع پیدا کرکے مسائل میں کمی لائی جائیں کسی بھی معاشرے کو خوشحال اور امن دینے کے لئے سب سے پہلے وہاں کے باسیوں کو روزگار کی فراہمی اولین ترجیع ہونی چائیے ضلع چاغی جوایٹمی دھماکوں کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے جس نے اپنے سینے میں دردناک ایٹمی دھماکے برداشت کرکے اپنے اوپربسنے والوں کو خطرناک ترین بیماریوں کے حوالے کیا تو دوسری جانب ضلع چاغی میں موجود قدرتی خزانوں جوکہ سیندک ریکودک سیاہ دک ودیگرعلاقوں میں موجود ہیں جن میں سونا چاندی کرومائٹ جپسم ودیگرقیمتی معدنیات پائے جاتے ہیں گذشتہ بیس سالوں سے سیندک ودیگرعلاقوں میں چائنیزومقامی کمپنیاں کام کرکے اربوں ڈالرکمارہے ہیں مگر یہ جان کر سب کو حیرانگی ہوگی کہ ضلع چاغی کے اکثرلوگ بیروزگاری کاشکار ہیں یہاں کے لوگوں کی اکثریت افغانستان وایران کے بارڈرزپرکاروبارکرکے دہائیوں سے اپنے گھروں کے چولہے جلاتے رہے ہیں اب ایک سال سے افغانی وایرانی بارڈرز کو 90 فیصد بندکرکے کاروباربندکردی گئی ہے یہاں تک کہ سرحدی شہرتفتان میں قانونی طور پر چلنے والے کاروباری پوائنٹ بازارچہ کو بھی مکمل بندکرکے پانچ ہزار لوگوں کونان شبینہ کامحتاج بنایاگیاہے جس کی وجہ سے ہزاروں خاندانوں کے گھروں میں فاقے پڑگئے ہیں گذشتہ پانچ مہینوں سے بازارچہ کھولنے کے لئے ایرانی اور پاکستانی حکام کے درمیان متواتراجلاس ہوتے رہے ہیں اورتمام معاملات طے پاگئے ہیں مگر ابھی تک اسے کھولنے میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہے مقامی تاجروں کی جانب سے کہایہ جارہاہے کہ این ایل سی نامی ایک کمپنی جوکہ بازار کے متبادل تمام اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں بازارچہ کھولنے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے اہلیاں تفتان نوکنڈی نے حکومت پاکستان اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کی ہے کہ بازارچہ کو جلد سے جلد شروع کرکے مقامی لوگوں کوکاروبار اورمزدوری کا حق دیا جائیں۔


