بلوچ لاپتہ افراد کا مسئلہ حکومتی کمیٹی پر چھوڑنا سرد خانے میں ڈالنے کے مترادف ہے، نیشنل پارٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کی خواتین سیکر ٹری یاسمین لہڑی نے اپنے بیان کہا ہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت کی یقین دہانی پر بلوچ مسنگ پرسن کے لواحقین نے اپنا احتجاجی دھرنا ختم کر دیا اس امید کے ساتھ ان کے پیاروں کے ساتھ جلد انصاف کیا جاے گا،موجودہ حکومت اور پی ڈی ایم کی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ریاست کے اندر ریاست کی موجودگی کے تاثر کے کلچر کا خاتمہ ہے، مسنگ پرسن کے کیس میں اعلیٰ عدلیہ کی سنجیدگی ہی میں عوام کے دیرینہ مسئلے کا حل ثابت ہو سکتاہے، حکومت کی طرف سے قائم کمیٹی پر مسئلے کو چھوڑنا سرد خانے میں ڈالنے کے مترادف ہے کیونکہ پاکستان میں قائم کی جانے والی کمیٹیوں کا تجربہ اچھا نہیں رہا ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ دستور پاکستان کے لیے 12 مارچ 1949ء میں 24 رکنی کمیٹی بنائی گی، تین وزیر اعظموں کے اقتدار کے خاتمے کے بعد چھے سال بعد اس وقت سفارشاث پیش کیں جب چیف جسٹس محمد منیر نے بد نام زمانہ نظریہ ضروت کے تحت اسمبلیاں توڑنے کے فیصلے کو درست قرار دیکر ملک میں غیر جمہوری پارلیمان کی بنیاد ڈالی جو کہ آج تک ملک کیلیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ لہٰذا پی ڈی ایم کی قیادت اور وزیراعظم سے درخواست ہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد حل آئین اور قانون کی بالادستی کے ساتھ عدلیہ، حکومت اور دوسرے ریاستی ادارے اگر محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق 1940ء کی قرار داد اور 11 اگست 1947ء کی تقریر پر یکسر ہو کر عمل کریں جس سے پاکستان ایک سیکولر اور حقیقی وفاقی جمہوری ملک بن سکتا ہے۔


