کوئٹہ سول ہسپتال میں نرس پر تشدد، نرسز نے ڈیوٹی کابائیکاٹ کردیا، انکوائری کمیٹی تشکیل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) کوئٹہ سول ہسپتال میں نرس پر تشدد کے خلاف نرسز نے احتجاجاََ ڈیوٹی کابائیکاٹ کردیا،سنڈیمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ کے شعبہ اطفال میں گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے،نرسز رہنماؤں کاکہناہے کہ نرس پے تشدد اور ہیڈ اوف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر مبین الرحمن کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے رات 12 بجے اسٹاف نرس کو وارڈ کے ڈاکٹر نے تشدد کا نشانہ بنایا لیکن 12 گھنٹے گزارنے کے بعد بھی کوئی مذمتی بین نہیں ڈاکٹر مبین الرحمن کی خاموشی بہت سارے سوالات جنم لے رہے ہیں۔کیا ڈاکٹر مبین الرحمن صرف ڈاکٹرز کے ہیڈ اوف ڈیپارٹمنٹ ہیں کیا ڈاکٹر مبین الرحمن کے وارڈ میں کام کرنے والی نرسز اپنے اپ کو بے یارومددگار سمجھیں اس طرح کا ناروا سلوک نرسز کے ساتھ کسی صورت منظور نہیں احتجاج جاری رہے گا اگر نرسز کے جائز مطالبات حل نہیں کئے جاتے نرسز سراپا احتجاج پے رہیں گے رات میں ڈیوٹی پر موجود نرسز پر ڈاکٹر نے تشدد کیا,خاتون نرس کے چہرے پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں, ڈاکٹر نے معمولی بات پر نرس پر تشدد کیا، دوسری جانب ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال کے مطابق سنڈیمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ کے شعبہ اطفال میں گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، انکوائری کمیٹی رپورٹ میں جو بھی قصور وار ثابت ہوا اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، کوئٹہ:انکوائری مکمل ہونے تک دونوں فریقین کو جزوی طور پر معطل کردیا گیا ہے، ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے کو بنیاد بناکر کچھ شرپسند عناصر ہسپتال کا ماحول خراب کرنے میں مصروف عمل ہیں جس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، آئی سی یو اور سی سی یو کے احاطے میں نعرے بازی کرنے والے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جن لوگوں کی پوسٹنگ سنڈیمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ میں نہیں وہ اپنی سیاست چمکانے کیلئے ہسپتال میں احتجاج کی کال دے کر انتظامیہ کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں ان کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، تمام نرسز اپنی ڈیوٹی پر حاضری یقینی بنائے بصورتِ دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں