ہرنائی واقعے کیخلاف خوست میں دھرنا 31 ویں روز بھی جاری، احتجاج کو وسعت دینے کا فیصلہ
ہرنائی (انتخاب نیوز) ضلع ہرنائی کے خوست میں فورسز کی فائرنگ سے نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابر کی موت اور دیگر کو زخمی کرنے کے واقعہ کیخلاف اور عوامی مطالبات کی حل کیلئے جاری احتجاجی تحریک اور خوست دھرنا 31ویں روز بھی جاری رہا۔ گزشتہ روز خوست میں دھرنا کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوامی مطالبات کی حل تک جمہوری احتجاج جاری رہیگا اور 15 ستمبر بروز جمعرات کو 4 بجے زردالو میں احتجاجی جلسہ عام منعقد ھوگا اور احتجاجی تحریک کو مزید وسعت اور سخت کرنے کیلئے خوست کے مقام پر پہیہ جام ہڑتال اور خواتین و بچوں کادھرنا شروع کیا جائے گا، جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا جبکہ 15ستمبر کو کوئٹہ میں نیشنلسٹ اور ترقی پسند سیاسی پارٹیوں کا اجلاس منعقد ھوگا جس میں خوست دھرنا اور عوامی مطالبات کی حق میں جنوبی پشتونخوا میں جاری احتجاجی تحریک کے آئندہ اقدامات کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ خالقداد کے قاتلوں کی گرفتاری، واقعہ میں زخمی ہونے والوں کی ایف آئی ار درج کرنے، ضلع ھرنائی کے تمام عوامی مقامات سے سیکورٹی فورسز کے مورچے ہٹانے، ضلع میں کول مائنز پر بھتہ گیری کے خاتمے، ضلع کی گمبھیر اور تشویش ناک صورتحال کے خاتمے اور ذمہ دار اداروں کا تعین کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے، سول انتظامیہ کے اختیارات بحال کرکے اس میں فورسز کی مداخلت بند کرنے اور خالقداد بابر کو حکومتی سطح پر شہید قرار دیکر ان کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضہ دینے کے جمہوری، آئینی اور قانونی مطالبات کو تسلیم کرکے اس پر عملدرآمد کرنے سے ضلع ھرنائی میں امن وامان، قانون کی حکمرانی قائم ھوکر سیاسی، معاشی، کاروباری اور سماجی سرگرمیاں بحال ھوں گی اور ضلع کے پرامن عوام کا غم و غصہ اور تشویش کا خاتمہ ھوگا۔ اجلاس میں نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان، عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ولی داد میانی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصرت اللہ، پشتون تحفظ موومنٹ کے وہاب خان کاکڑ، جمعیت علما اسلام کے حافظ احسان الحق اور تحریک انصاف کے عبدالحکیم نے شرکت کی۔


