پنجگور ٹیچنگ اسپتال میں سیکنڈ شفٹ میں ڈاکٹروں کا بحران، عوام پریشان
پنجگور (انتخاب نیوز) پنجگور ٹیچنگ اسپتال میں سیکنڈ شفٹ میں ڈاکٹروں کا بحران بدستور برقرار، دوماہ قبل سیکرٹری ہیلتھ کے اعلانات بھی زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے، عوام شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ٹیچنگ اسپتال پنجگور جو پانچ لاکھ کی آبادی کا واحد طبی سہارا ہے، ڈاکٹروں کی 70 سے زیادہ اسامیاں خالی پڑی ہیں، ڈاکٹروں کی 90 اسامیوں میں صرف 17 پر تقرری ہوئی ہے، ٹیچنگ اسپتال میں جن 17 ڈاکٹروں کی پوسٹنگ ہے ان میں سے کچھ کورسز پر گئے ہوئے ہیں اور جو ڈاکٹر موجود ہیں ان کی ڈیوٹیاں صرف صبح کے اوقات ہوتی ہیں، سیکنڈ شفٹس میں اسپتال صرف پیرا میڈیکس اور رضاکاروں کے سپرد ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو انتہائی تکلیف دہ حالات کا سامنا رہتا ہے۔ رات کے اوقات ایمرجنسی میں آنے والے مریض اور انکے لواحقین مجبوراً خالی ہاتھ لوٹ جاتے ہیں، بدقسمتی سے پنجگور میں پرائیویٹ سیکٹر میں بھی کوئی ایسا اسپتال یا میٹرنٹی ہومز نہیں جہاں کوئی اپنے مریض کو لے جاسکے، دو ماہ قبل جب سیکرٹری ہیلتھ صالح محمد ناصر پنجگور کے دورے پر آئے ہوئے تھے تو میڈیا نے پنجگور میں ڈاکٹروں کے بحران اور دیگر طبی معاملات پر ان سے سوال کیا تو موصوف نے ایک ماہ کے دوران پنجگور کے لیے 45 ڈاکٹر بھیجنے کا وعدہ کیا مگر اب تیسرا مہینہ شروع ہونے والا ہے مگر پنجگور میں کوئی ایک ڈاکٹر بھی پوسٹ نہیں ہوا بلکہ ماضی کی طرح ڈاکٹروں نے حکومتی احکامات کو سرے سے رد کیا اور تاحال کوئی بھی ڈاکٹر پنجگور میں آنے پر راضی نہیں ہے۔ پنجگور میں ڈاکٹروں کے بحران پر سابق چیف سیکرٹری کے ساتھ بھی پنجگور پریس کلب کے صحافیوں اور موجودہ ایم ایس انوز عزیز نے بھی یہ مسئلہ اٹھایا مگر اس وقت کے چیف سیکرٹری نے برملا یہ کہا کہ جن ڈاکٹروں کی پوسٹنگ ہوتی ہے وہ دوبارہ اپنا تبادلہ کرواتے ہیں۔ انہوں نے ایم ایس کو مشورہ دیا کہ 30 سے چالیس ہزار پر پرائیویٹ ڈاکٹر رکھ لیں تاکہ کام چلے۔ پنجگور میں سیکنڈ شفٹوں میں ڈاکٹروں کا نہ ہونا کسی بڑے المیے کو جنم دے سکتا ہے۔ حکومت وقت اور وزارت صحت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پانچ لاکھ کی آبادی کی مشکلات کا احساس کریں اور فوری طور پر ایمرجنسی میں ڈاکٹروں کی تقرری یقینی بنائیں تاکہ عوام روزانہ کی ازیت ناک صورتحال سے بچ سکیں۔


