کوئٹہ کراچی شاہراہ پر حادثات کی بڑھتی شرح تشویشناک صورتحال اختیار کرچکی، ایمرجنسی رسپانس سینٹر

لسبیلہ (انتخاب نیوز) میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر1122 ضلع لسبیلہ کے ایمرجنسی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عدیل احمد خان(تمغہ صدارت )نے کوئٹہ کراچی شاہراہ 25 -N پر ایکسیڈنٹ کے واقعات پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایکسیڈنٹ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح تشویشناک حالت اختیار کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس روڈ پر ایکسیڈنٹ کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ بہت سی وجوہات ہیں ان وجوہات پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ اور اقدامات کی ضرورت ہے۔آئے روز ان حادثات کی ایک ہی وجہ لوگوں کو بتائی جاتی ہے کہ یہ سنگل روڈ ہے۔یہ وجہ باتوں کی حد تک ٹھیک ہے مگر حقیقت کے برعکس ہے روڈ کا سنگل ہونا ایک وجہ ضرور ہوسکتی ہے مگر دیگر وجوہات کو جاننا اور سمجھنا بہت ضروری امر ہے۔اس شاہراہ پر حادثات کی بڑھتی وجہ کی کءوجوہات ہیں جن میں غیر تربیت یافتہ افراد کا ڈرائیو نگ کرنا، نشے کا بے دریغ استعمال، پھل اور سبزیوں کی ٹائم والی گاڑیوں کا منڈیوں تک جلد رسائی کے لیے اوور سپیڈ کی تمام حدیں پار کرنا، اوور ٹیک کرنا، گاڑیوں میں اوور لوڈنگ کرنا، پٹرول ڈیزل کی سمگلنگ کی گاڑیوں سے گرنے والے فیول سے روڈ کا سلپ ہونا، چھوٹی گاڑیوں کے ڈرائیورز کی ڈبلنگ، چھوٹی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کا موٹر سائیکل چلانا، روڈ ٹریفک اشارات پر عمل نہ کرنا، ڈرائیو نگ سے پہلے گاڑیوں کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونا، سڑک کے کناروں کی بروقت مرمت نہ ہونا، خراب گاڑیوں کا خطرناک موڑوں پر گھنٹوں کھڑا رکھنا، کوڑا کرکٹ کا سڑک پر پھینکنا، سیٹ بیلٹ نہ باندھنا، سواری کی گاڑیوں میں اسمگلنگ کا سامان اوور لوڈنگ کرنا، ڈرائیو نگ کے دوران موبائل استعمال کرنا، صحت وصفائی کے اصولوں پر عمل نہ کرنا، ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر الرجی کی ادویات استعمال کرنا جن سے غنودگی چھا جاتی ہے، بروقت آنکھوں ، دل و دماغ اور قوت سماعت کافٹنس چیک اپ نہ کرانا، موسمیاتی تبدیلی، غیر معیاری بریک آئل کا استعمال، تیز آواز میں میوزک سننا، سفر کی احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنا،موٹر سائیکل سواروں کا اچانک چھوٹے راستوں سے بڑی شاہراہ پر آنا، جانوروں کا اچانک سڑک پر نمودار ہونا، مائننگ ایریاز میں کئی ٹن وزنی پتھر سے لوڈ گاڑیوں کا بنا کسی ریفلکٹڈ سٹیکر کے چلنا،انتہائی ناقص اور خستہ حال گاڑیوں کو سواریوں کے لیے استعمال کرنا، اوور ایج ڈرائیورز کا گاڑی چلانا اور دوسری بہت سی وجوہات شامل ہیں۔معاشرے کے عام افراد میں روڈ ٹریفک ایکسیڈنٹ کی وجوہات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ انسانی قیمتی زندگیوں کا معاملہ ہے کسی ایک شخص کی غفلت کی وجہ سے بہت سی قیمتی زندگیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ایکسیڈنٹ سے متاثرہ افراد کی جان بچ بھی جائے تو اکثر افراد معذور ہوجاتے ہیں۔حادثات کے بعد لوگ دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اگر یہی لوگ احتیاطی تدابیر اور وجوہات کے حوالے سے شعور اجاگر کریں تو بہت سی قیمتی زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سماجی کارکنوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ زیادہ سے زیادہ سماجی کارکنوں کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت حاصل کرنا چاہیے کیونکہ حادثہ کسی کے ساتھ کہیں بھی ہوسکتا ہے، ابتدائی طبی امداد کورسز کا حامل شخص حادثے کے شکار افراد کی جائے حادثہ پر ابتدائی طبی مدد اور مریضوں کی بحفاظت منتقلی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔معاشرے کے عام افراد کو آگے بڑھنا ہوگا اور اپنا ممکنہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ایم ای آر سی 1122بلوچستان کے زیر اہتمام مختلف اوقات میں ابتدائی طبی امداد کے کورسز کا انعقاد کیا جاتا ہے اور کمیونٹی کی سطح پر سیمینار اور ورکشاپس کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں