لائیو سٹاک اور ڈیری کے شعبے کی ترقی کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے،ماہرین

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کو لائیو سٹاک اور ڈیری کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے مناسب اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں اس شعبے سے زیادہ آمدنی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت ہے۔پاکستان کی 50فیصد سے زیادہ آبادی زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے اور زراعت کے شعبے میں لائیو سٹاک کا اہم کردار ہے۔ملک کی جی ڈی پی میں زرعی شعبے کا کل حصہ تقریبا 22.7 فیصد اور ملک کی کم از کم 37.4فیصد افرادی قوت زراعت کے شعبے میں کام کررہی ہے جس میں سے 80 لاکھ سے زیادہ دیہی خاندانوں کا انحصار مویشیوں پر ہے۔ویلتھ پاک سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین لائیو سٹاک ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن سید جاوید حسین کاظمی نے کہا کہ پاکستان کو تیز رفتار اقتصادی ترقی، غربت میں کمی اور غذائی تحفظ کے لیے لائیو سٹاک کے شعبے پر توجہ دینا ہوگی۔ لائیو سٹاک ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لائیوسٹاک کی صنعت میں، تقریبا 70 فیصد کسانوں کے پاس اوسطا چار سے کم مویشی ہیں۔ ضروری ہے کہ کاشتکاروں کوکمرشل فارمنگ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا جائے اور مویشیوں کی تعداد بڑھانے میں ان کی مدد کی جائے۔اس سے پاکستان لائیو سٹاک کے شعبے میں بہتری لا کر گوشت کی بین الاقوامی منڈی میں اپنے حصے میں اضافہ کرسکتا ہے۔ جاوید کاظمی نے کہا کہ کسانوں کے لیے آگاہی پروگراموں کا اہتمام کیا جانا چاہیے، اور حکومت کو جدید پالیسیوں اور قوانین کے ذریعے لائیو سٹاک کے شعبے میں ٹیکنالوجی متعارف کرانی چاہیےجانوروں کی بڑے پیمانے پرویکسینیشن سے مویشیوں کو منہ کھر اور لمفی اسکن کی بیماریوں سے بچایا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کی بی تعداد مویشی پالتی ہے جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے اور مویشی ان کا ذریعہ معاش ہے۔اس حوالے سے سپلائی چین، گورمے فوڈز کےمنیجر کاشف علی نے ویلتھ پاک سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کا ڈیری سیکٹر مناسب اصلاحات اور جدید تکنیک کے استعمال سے مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی طلب کو پورا کر سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈیری فارمرز کو درپیش ایک بڑا چیلنج دودھ کی کم پیداوارکا ہے۔ مزید یہ کہ کسانوں کی جانب سے جو دودھ مارکیٹ میں لایا جاتا ہے وہ کم معیار اور غیر محفوظ ہے۔اگر حکومت مقامی کسانوں کی مدد اورانہیں جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کرے اور ان پٹ پر سبسڈی دے تو پاکستان بین الاقوامی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کرکے، غیر ملکی زرمبادلہ کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے جانوروں کی فی یونٹ پیداواری صلاحیت میں اضافے، جانوروں کی بہتر دیکھ بھال اور ویکسینیشن وغیرہ کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لیے حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے چاہیئیں ۔وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ طارق بشیر چیمہ نے ایک حالیہ اجلاس میں لائیو سٹاک اور ڈیری سیکٹر کی ترقی کے لیے جامع اصلاحات کی اشد ضرورت پر زوردیا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی رجحانات کے مطابق، ہمیں لائیو سٹاک اور ڈیری سیکٹر کو جدید بنانا اور ترقی دینا ہوگی۔ حکومت کسانوں کے لیے اپنے مویشیوں اور دودھ کی مصنوعات کی قدر میں اضافہ کرنا آسان بنانا چاہتی ہے۔جس سے کسانوں کے منافع میں اضافہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں