جیرک بارڈر انتظامیہ و کمیٹی کی اجارہ داری سے کاروبار تباہ ہوچکا ، پنجگور بارڈر بچاﺅ تحریک
پنجگور (انتخاب نیوز) بارڈر بچاﺅ تحریک کے رہنما سعود احمد، نثار احمد، حاجی عبیداللہ، حاجی اختر، حاجی یونس، مراد نواز، عبدالرحمن صابر بلوچ، عبداللطیف، اشفاق آدم، نجیب اللہ، حاجی اکرم، رحمت اللہ زعمرانی، حاجی غلام جان مہر اللہ، مہر امان جان، لالا نیک جان، عبدالماجد و دیگرنے کثیر تعداد میں کاروباری، سیاسی، سماجی شخصیت کے ساتھ ایک پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجگور جیرک بارڈر انتظامیہ و بارڈر کمیٹی کی اجارہ داری کی وجہ سے کاروبار تباہ ہوچکا ہے، گزشتہ چار ماہ سے لاکھوں غریب گاڑی مالکان انٹری کی تاریخ کے منتظر ہیں انہوں نے کہا ہے کہ پنجگور عوام کے اکثریت کی معیشت کا تعلق پاک ایران بارڈر اور تیل کے کاروبار سے منسلک ہے، لوگ ایران بارڈر پر محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو علاقے میں باعزت زندگی گزارنے کے لیے ان کی تعلیم اور تربیت بھی اسی کاروبار سے کررہے ہیں، جیرک باڈر میں ای ٹیگ کے طریقہ کار سے لوگ کاروبار کررہے ہیں اور ایک بہترین نظام کے تحت لوگ اپنی باری پر بارڈر جا کر اپنی زندگی گزار رہے تھے مگر دو مہینہ سے جیرک بارڈر پر غریب عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے، ، لوگ اپنی باری کا انتظار کرتے کرتے تھک چکے ہیں، غریب عوام ہر روز بڑی اذیتوں کے بعد پنجگور ای ٹیگ سینٹر میں اپنی انٹری کی باری کے بارے میں جب معلومات کرلیتے ہیں، تو ان کو جو نئی تاریخ دی جاتی ہے اور جب مقررہ تاریخ پر لوگ اپنی گاڑیوں میں فیول وغیرہ ڈلوا کر بارڈر کی طرف بھیج دیتے ہیں تو وہاں ان کو یہ کہہ کر واپس کیا جاتا ہے کہ آپ کی تاریخ تبدیل ہوگئی ہے، لوگ ہر روز لاکھوں روپے کا نقصان اٹھا رہے ہیں لیکن ذمہ داروں کو احساس نہیں کہ وہ متواتر آنے سے کتنا خرچہ کررہے ہیں، ان کی باری ان تین مہینوں میں بھی ایک بار تسلی بخش سے نہیں آیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ مافیاز کی گاڑیوں کو پیکج کے تحت ان سے مخصوص رقم لے کے غریب کی گاڑیوں کی باری ان کو دی جارہی ہے، رشوت ستانی کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے، اس سارے دھندے میں پنجگور بارڈر کمیٹی کے کچھ لوگ انتظامیہ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، جو غریب کی گاڑیوں کے تاریخ تبدیل کرکے اپنے من پسند افراد سے رشوت لے کر ان کی گاڑیوں کو ہر روز سسٹم کے ذریعے بارڈر کی طرف بھیجا جارہا ہے، غریب عوام نان شبینہ کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کاروبار کو سہل بنانا لوگوں کو آسان کاروبار دینا ضلعی انتظامیہ کی قانونی آئینی اخلاقی ذمہ داری ہے لیکن ضلعی انتظامیہ کی مایوس کن کارکردگی علاقے کو کسی اور جانب دھکیل رہی ہے جس سے فساد کی بو آرہی ہے، انتظامیہ کی جانب غریبوں کی حق تلفی کرکے روزانہ سینکڑوں کے حساب سے لوگوں کو سفارش اور پیسے کی بنیاد پر ای ٹیگ جاری کیا جارہا ہے اور غریب عوام کے روزگار کو مزید دشوار بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور میں کاروبار کا آخری سہارا بارڈر ہے اس پر کسی حد تک جانے کو تیار ہیں کسی کو اس کاروبار پر قدغن لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ لہٰذا بارڈر بچاﺅ تحریک مطالبہ کرتی ہے کہ جتنے بھی ای ٹیگز جاری ہوئے ہیں ان سب کی لسٹ پبلک کی جائے اور نئی رجسٹریشن پر مکمل پابندی عائد کی جائے، رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد عوام کو بتا دی جائے جتنے بھی ای ٹیگز جاری ہوئے ہیں ان سب کی صاف اور شفاف طریقے سے ری ویریفکیشن کی جائے اور حتمی لسٹ تشکیل دے کر پبلک کو آگاہ کیا جائے، انٹری پوائنٹس پر رشوت ستانی کا جو بازار گرم رکھا ہوا ہے اس کو بند کیا جائے اور ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جائے، انٹری پوائنٹس پر اسکیننگ سسٹم کو بحال کیا جائے، بارڈر پر سیکنڈ سیٹر کو جانے کی اجازت دی جائے نام نہاد پنجگور بارڈر کمیٹی کا پورے طور پر مکمل خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر بچاﺅ تحریک اور پنجگور کے کاروبار کی طرف سے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، کمشنر مکران، آئی جی ایف سی ساﺅتھ، بریگیڈئر پنجگور، ڈپٹی کمشنر پنجگور، اسسٹنٹ کمشنر گوارگو سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے مطالبات کو حل کیا جائے بصورت دیگر ہم اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے سخت سے سخت احتجاج کا سلسلہ شروع کریں گے۔


