نیشنل پارٹی تربت یونیورسٹی کو تعلیمی ادارہ رہنے دے، سیاسی نرسری نہ بنائے، ظہور بلیدی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماءوسابق صوبائی وزیر میر ظہوراحمدبلیدی نے کہاہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کی تباہی کے بعد اب نیشنل پارٹی تربت یونیورسٹی کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ تربت یونیورسٹی کو ایک تعلیمی ادارہ رہنے دیں اسے اپنی سیاسی نرسری نہ بنائیں تربت یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت کسی بھی سیاسی پارٹی کو نہیں دی جائے گی ۔جامعہ تربت اور لورالائی کی منظوری آغاز حقوق بلوچستان کے تحت 2012 ءکو ہوئی ہے اور اس کا کریڈٹ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے بیان میں کیا۔ میر ظہور احمدبلیدی نے کہاکہ بلوچستان یونیورسٹی کی تباہی کے بعد اب نیشنل پارٹی تربت یونیورسٹی کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ تربت یونیورسٹی کو ایک تعلیمی ادارہ رہنے دیں اسے اپنی سیاسی نرسری نہ بنائیں۔ تربت اور مکران کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے دے انکو سیاسی انتہاپسندی کی طرف نہ دھکیلیں۔نواب اسلم رئیسانی کے دور حکومت میں 2012ءکو تربت یونیورسٹی قائم ہوئی تو مکران کے سیاستدانوں نے جس میں مجھ سمیت سید احسان شاہ، زبیدہ جلال، ڈاکٹر مالک، اصغر رند اور میر رﺅف رند سب نے اپنا کردار ادا کیا۔ ایک ایماندار اور قابل وائس چانسلر کی تعینات کی گئی ہے، وائس چانسلر نے میرٹ کی بنیاد پر قابل لوگوں کی ٹیم بنائی ہے اور شفافیت کو فروغ دیا ہے لیکن ایک نام نہاد سیاسی پارٹی کا مخصوص ٹولہ اس کو اپنی سیاست کی نرسری بنانا چاہتی ہے اور ایک عرصے سے وی سی اور اس کی ٹیم کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو۔تربت یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت کسی بھی سیاسی پارٹی کو نہیں دی جائے گی ۔جامعہ تربت اور لورالائی کی منظوری آغاز حقوق بلوچستان کے تحت 2012 ءکو ہوئی ہے اور اس کا کریڈٹ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو جاتا ہے اسی دور حکومت میں آٹھاریوں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ 3.5 فیصد سے بڑھا کر 9.09 فیصد کر دیا گیا اور پانچ ہزار اساتذہ کی بھرتی کیے گئے


