بلوچستان کے سیاسی حالات میں انقلاب کی گنجائش
تحریر: نصیر بلوچ
آج کے دورِ سیاست میں اصول و قوانین کے بجائے طاقت و دھونس اور موقع پرستی کو جائز مان لیا گیا ہے۔ اقتدار کے سایہ میں کارگر عمل انتقامی کارروائیاں، عوام کا استحصال، من مانیاں صرف یہیں بچتی ہیں۔ اقتدار ملنے سے پہلے عوامی مفادات، بے تحاشہ ٹینڈرز، سالہا سال عوامی خدمات میں سرگرمِ عمل بیانیہ پرانہ ہوچکا ہے۔ اب ایک ڈیجیٹل بیانیہ تیار کیا جانا چاہئے وہ ایک اسکینڈل کی صورت میں نیک نیتی کی عکس نمائی کرتا ہو۔ آڈیو لیکس نہیں سیلف آڈیو ریلیز کئے جانے چاہئیں جسے وقت کے ساتھ بدلتا روایتی بیانیہ تسلیم کیا جائے گا۔ ہاں بات کرنے میں اجتناب کرلیا کریں آج کل ملکی سیاست میں آڈیو لیکس کی بڑی مارکیٹنگ چل رہی ہے، معلوم نہیں کب بلوچستان کی سیاست میں یہ انقلاب برپا گا۔ اس دن عوام دوست و بلوچ قوم کے لئے دردِ دل رکھنے والے سب لیڈران کا اصل چہرہ نمودار ہوگا۔ پچھلے مہینوں میں فواد چودھری نے میڈیا ٹاک میں یہ انکشاف کیا تھا کہ اختر مینگل کے 6 نکات پر عملدرآمد نہ کرنے کے بدلے میں ہم اسے 40 ارب دے چکے ہیں۔ بلوچ قوم پرست سیاست دان اخترمینگل پر لگا یہ الزام اتنا معمولی بھی نہیں جسے نظرانداز کیا جاسکے اور اتنا بے قدرا الزام بھی نہیں جس پر اختر مینگل صاحب کا ردِ عمل بھی نہ آئے۔ ملکی و بین الاقوامی سیمینارز یا پروگرام میں وزیراعلیٰ بلوچستان کو ساتھ نہیں لیجایا گیا ہے، البتہ کئی بار مدعوع کرنے پر انہوں نے خود آنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ بلاول کو وزیرِ خارجہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ فرفر انگریزی بولتے ہیں، اسے ہمارے دوسرے سیاستدانوں کی طرح کاغذ کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان اور بلاول کی اردو میں کچھ خاصا فرق نہیں، ہاں البتہ بلاول کی اردو میں انگریزی کا تھوڑا چسکا ہے جس سے اردو کی اکسِنٹ زرا اور دلفریب ہوجاتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عبدالقدوس بزنجو کے بیرون ملک پروگرامز کے شراکت میں انگریزی زبان آڑے آرہی ہو۔ اس وقت بلوچستان کو شدید سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ اپوزیشن حکومت کی دست و بازو بنی ہوئی ہے۔ حکومت انتقامی کارروائیوں میں مصروف عمل ہے۔ حکومت کی اپنے آبائی علاقے آواران، کولواہ میں انتقامی کارروائیاں قابل افسوس عمل ہے جس کو زمینی تنازعات کا مسئلہ بتاکر کر دو سفید ریش بزرگ شخص کو ضلعی انتظامیہ کے ہاتھوں گرفتار کروایا جو اپنے علاقے کے سربراہ و بزرگ ہونے کے ساتھ انکا تعلق بھی مقدس پیشے سے ہے، ایک ڈاکٹر جسے ہم مسیحا گردانتے ہیں لیکن اور ایک معزز ٹیچر جسے روحانی والد کا درجہ دینے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ انکے ساتھ یہ ناروا سلوک اس لئے رکھا گیا کہ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں انہوں نے نیشنل پارٹی کو کیوں ووٹ کیا۔ جبکہ ووٹ ہر کسی کا اپنا حق ہے چاہے وہ کسی کو بھی کاسٹ کریں یہ حق انہیں آئین دیتا ہے۔ لیکن اس بے حس لوگوں سے آئین کے متعلق بات کرنا بے جا ہوگا چونکہ اس کے چند ہی دنوں میں بی بی سائرہ کولواہ کی بیٹی بلوچستان کی پہلی سی ایس ایس پاس آفیسر بھی انتقامی کارروائیوں کی زد میں آگئی۔ اور یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا انہیں 2018ء کو بلوچستان سے وفاق ٹرانسفر کیا گیا تھا اور 2010ء کرپشن کا بے بنیاد الزام لگاکر انکو پوسٹنگ سے ہٹاکر انکے خلاف کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں کرپشن ثابت نہ ہونے پر انہیں دوبارہ بحال کیا گیا۔ ابھی سائرہ عطا OSD ہے۔
اس وقت وہ کوئی پوسٹ پر نہیں ہے اور اس پر انکوائری یا کیس چل رہے ہیں۔ ستم ظریفی تو دیکھیں یہ بندہ کہے کہ میں چیزوں کو بہتر کروں گا اور چیزیں بہتر ہورہی ہیں، چیزیں بہتر ہورہی ہیں لیکن آپکی جانب سے روا رکھی گئی کارکردگی بہتر ہوتی نظر نہیں آرہی۔ بلوچستان کے باآواز لوگوں نے عامر گلناز نامی ٹرانس جینڈر کے ڈانس کو لیکر جنتا شور مچایا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ یہ زور بلوچستان کے دیگر مسائل پر لگاتے۔ مزاحمت ہی مسائل کا حل ہے، یہ جعلی قیادت سے بہتری کی کوئی توقع نہیں اور رکھنا بھی فضول ہے۔ جب تک متحد و متفق مزاحمت نہیں کی جائے گی، سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ عامر گلناز بلوچ کے معاملے پر متحرک باآواز لوگ باقی مسائل پر خاموش کیوں ہیں؟ جہاں عامر گلناز کا سوال ہے تو انکا سب سے پہلا قصور یہ ہے کہ وہ اس خطے میں پیدا ہوئے جس سماج میں جو کام چوری چھپے کیا جائے تو صحیح اگر وہی کام بظاہر کیا جائے تو بے غیرتی تصور کرلی جاتی ہو، اس بوسیدہ سماج میں منطقی سے لوگوں کو صحیح غلط باور کرانا کافی مشکل ہے۔ جبراً حکمرانی بھی وہی ممکن ہے کہ جہاں سیاسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ایران میں بلوچ قوم پر ظلم کی انتہا ہوچکی ہے۔ ایرانی حکومت نے درجنوں مظاہرین کو گولی سے بھون دیا ہے، سینکڑوں لوگ شہید ہوچکے ہیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل جو انسانی حقوق کا عالمی ادارہ ہے انہوں نے شہداء کی تصویر شیئر کرکے اسکی سخت مخالفت کردی ہے، اسکے بعد سے امریکہ نے ایران پر سے اپنی پالیسوں میں اور سختی کردی ہے۔ ایران کے بااثر شخص جو امریکہ میں مقیم ہیں ان کو بے دخل کرنے سمیت دیگر جرمانے عائد کرنے کا لائحہ عمل اپنایا جارہا ہے۔ لیکن ابھی تک اس مسئلہ پر حکومت پاکستان نے کوئی اسٹینڈ نہیں لیا ہے۔ یہاں تک کہ بلوچ قوم دوست رہنما بھی خاموش رہے ہیں۔ بلوچ قوم پرست رہنماؤں میں سے کوئی ایران میں بلوچوں کے قتل و غارت پر کھل کر نہیں بولا ہے۔ اسکے کے علاوہ ہر دلعزیز پارٹی بی این مینگل کی دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے انکی سیاسی ساکھ ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ بقول ہمارے استاد محترم حسن خان آزاد جس نے پارٹی نام پر بھی مینگل پیوند کیا گیا ہو وہ خود کو بھلا کیسے قوم پرست جماعت ٹھہرائے گی۔ بی این پی اور بلوچستان عوامی پارٹی ایک جسم کے دو بازوں کی طرح ہیں۔ باقی رہی بات نیشنل پارٹی کی تو انکی بچی کچھی ساکھ کو اور مضبوط کیا جاسکے گا، بہتر اس موقع فائدہ اٹھا کر نیشنل پارٹی اپنی ساسی سرگرمیاں تیز تر کریں اور حکومت کی بھرپور مزاحمت کریں اور عوامی مسائل پر بول اٹھیں وگرنہ اس جدید دور میں مزید اپنی پارٹی ساکھ کو کسی منطق سے بچایا نہیں جاسکتا۔ توقع ہے کہ اس بار بلوچستان حکومت نیشنل پارٹی کو دی جائے گی ہاں اگر جام کمال خان پیپلز پارٹی میں شمولیت کرتے ہیں تو ن لیگ کو اس فیصلے پر آصف علی زرداری کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔


