بھارت، 2 خواتین کو قربانی کی بھینٹ چڑھانے والے 3 افراد گرفتار
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی پولیس نے امیر بننے کے لیے 2 خواتین کو قربانی کی بھینٹ چڑھاکر قتل کرنے کے الزام میں 3 افراد کو گرفتار کرلیا۔رپورٹ کے مطابق پولیس نے کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے تینوں افراد میں سے ایک شخص جادوگر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔پولیس کے ترجمان پرمود کمار نے کہا کہ مالی مشکلات میں گھرے ایک جوڑے نے محمد شفیع کو دو متاثرین کا ‘انتظام’کرنے کے لیے 3 لاکھ بھارتی روپے ادا کیے جنہیں تین ماہ کے وقفے سے ادا کی گئی رسومات میں بے دردی سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کردیا گیا۔پولیس نے بتایا کہ شفیع نے جنوبی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے جوڑے، بھگوال سنگھ اور اس کی بیوی لیلیٰ کو بتایا کہ بڑی دولت کا راستہ انسانی قربانی سے کھلے گا۔ محمد شفیع کو پولیس نے جنسی مجرم قرار دیا جس پر پہلی متاثرہ خاتون کے ریپ کا الزام ہے جسے وہ جون میں ایک مقامی فلم میں کردار کے بہانے بھگوال سنگھ کے گھر لے گیا تھا۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جوڑے نے جب شکایت کی کہ ان کی قسمت نہیں بدلی تو شفیع نے ستمبر میں دوسری قربانی میں حصہ لینے کے لیے راضی کیا۔پرمود کمار نے کہا کہ ہم پہلے ہی لاپتا ہونے والی پہلی خاتون کے معاملے کی تحقیقات کر رہے تھے کہ ہمیں معلوم ہوا کہ ستمبر میں لاپتا ہونے والی دوسری خاتون کے موبائل فون کی آخری لوکیشن بھی جوڑے کے گھر کے آس پاس تھی۔ دونوں خواتین گھر گھر لاٹری ٹکٹ بیچ کر روزی کماتی تھیں جن کی مسخ شدہ لاشیں جوڑے کے گھر کے احاطے میں دفن کی گئی تھیں، پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا شفیع دیگر مقدمات میں بھی ملوث تھا۔بھگوال سنگھ کے پڑوسیوں نے، جنہوں نے اسے ایک روایتی علاج کرنے والا بتایا، بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ان کے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ خونریزی کے معاملے میں ایک کردار تھا’۔پڑوسیوں کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ یہاں فریکچر، زخموں اور اس طرح کی دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے آتے تھے، ہمیں کبھی بھی کسی غلط چیز کا شبہ نہیں تھا اور وہ بھی اچھا سلوک کرتا تھا۔


