بلوچستان کا موجودہ سیاسی صورت حال
تحریر: مھراج بلوچ
بلوچستان وہ بد بخت صوبہ ہے جس کا نام زبان پہ آتے ہی آپ کو بدحالی، کرپشن، خون ریزی، روڑ حادثات، منشیات اور بہت سے مسائل زہن میں آجاتے ہیں۔ قدرتی زخائر سے مالا مال بلوچستان جہاں لوگ دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے ہیں، وہ بلوچستان جس کی وجہ سے پورا ملک پاکستان چل رہی ہے لیکن بلوچستان کی قسمت میں نوجوانوں کی لاشیں تحفے میں دیا جا رہا ہے، بلوچستان کو ہر طرح سے ہمیشہ پسماندہ رکھا گیا ہے جسکی وجہ بلوچستان کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے جو آنے والے وقت میں پورے بلوچستان کو آگ کی طرح اپنے لپٹ میں لے گا۔
اگر بات کریں پارلیمانی سیاست کی تو سب کے سب اپنے بینک بیلنس اور دولت جمع کرنے میں مصروف ہیں چاہے حکومت ہو یا اپوزیشن کے لوگ صرف اپنی زاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں، ثناء بلوچ جو دو دو گھنٹے کی جزباتی تقریریں کرتے کرتے نہیں تھکتے لیکن آج کل وہ ایسا خاموش ہے جیسے ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ بلوچستان کے سارے مسلئے اب ختم ہو چکے ہیں، مگر ہرگز ایسا نہیں بلوچستان آج بھی وہی تباہی کا شکار ہے یہاں روز نوجوانوں کی لاشیں اٹھائے جاتے ہیں، بے روزگاری اتنی عام ہو گئی ہے کہ لوگ خود کشی کرنے پر مجبور ہیں گزشتہ تین مہینوں میں تربت میں بہت سے خود کشی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔
بلوچستان کے لوگوں کا صرف ایک زریعہ معاش تھا جس سے سب لوگ با روزگار تھے لیکن اسے بھی قبضہ مافیا کے ہاتھوں بھیج دیا گیا ہے، بارڈر پر مافیا کا قبضہ کبھی ٹوکن سسٹم تو کبھی آئی ٹیگ کے نام پہ لوگوں کو زلیل کیا جارہا ہے، دوسری طرف مغربی بلوچستان زاہدان کا سیاسی صورتحال جہاں حال ہی میں بے گناہ بلوچوں کو دوران نماز مسجد میں شہید کیا گیا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ بہت غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔
ان تمام حالات کو دیکھ کر ہمیں بلوچستان کا مستقبل تباہ کن نظر آرہا ہے تو میری درخواست ان قوتوں سے ہے خدارہ اب بس کریں بلوچستان اب مزید برداشت نہیں کر سکتا لوگ تک چکے ہیں اب مزید ہم یہ ظُلم و جبر اور ناانصافی برداشت نہیں کرسکتے، اب ہم مزید لاشیں اٹھا نہیں سکتے، ہمیں روزگار اور نام نہاد ترقی کے نام پر تزلیل کرنا بند کیا جائے، بلوچستان جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، ان کے باسیوں کو انکا حقوق دیا جائے۔


