اسلحہ کے زور پر اراضیات پر قبضہ ناممکن ہے، زمین کا دفاع کرنا جا نتے ہیں، ملک تاج بازئی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) با زئی قبائل کے رہنماءملک تاج بازئی ایڈو کیٹ نے کہا ہے کہ کلی نو حصار میں موجود ہما ری 5سو سے6سو ایکڑ زمین پر بدست زور قبضہ کر نے کی کوششیں کی جا ری ہے ، سر کا ر کو اگر زمین کی ضروت ہے تو آئے ہم سے بات اور معاہدہ کرے ہم انکی مدد کریں گے ، اسلحہ کے زور پر ہما ری اراضیات پر قبضہ کرنا ناممکن ہے ، ہما ری زمین ہما ری عزت ہے جس کا دفاع کر نا ہم بخوبی جا نتے ہیں ، ان تمام مسائل سے متعلق تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے اور اگر اس صورتحال میں جانی ومالی نقصان ہوا تو اسکی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ سر کا ر کی جانب سے نو حصار میں بیواﺅں،یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کر نے کی پلانگ کی جارہی ہے جس سے کوئٹہ کے حالات بھی خراب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہما ری زمین ہما ری عزت ہے جس کا دفاع کر نا ہم بخوبی جا نتے ہیں ، سر کا ر کو اگر زمین کی ضروت ہے تو آئے ہم سے بات کرے ہم اپنی ارضیات میں سے پہلے فوج کو ٹریننگ اور سیکر ٹریٹ کو کالونی کے لئے زمین دے چکے ہیں اسلحہ کے زور پر ہما ری اراضیات پر قبضہ کرنا ناممکن ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سر کاری اگر ہما ری زمین پر قبضے کر نا چاہتی ہے سیکر ٹریٹ یونین اور محکمہ پولیس کی جانب سے لینڈ ما فیا گروپ کے ساتھ ملکر ہما ری ارضیات پر قبضہ کیا جا رہا ہے جو قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کلی نو حصار میں موجود ہمار ی اراضیا ت سے متعلق عدلیہ ہما رے حق میں فیصلہ بھی دی چکی ہے اگر قبضے کے دوران حالات خراب ہوئے تو اسکی تمام تر ذمہ داری حکومت کو عائد ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ آج پھر پو لیس بدست زور اراضیات پر قبضہ کر نے کی کوشش کرے گی لیکن آج قبائلی کے لوگ اپنی ارضیات پر موجود ہوں گے دیکھتے ہیں کون ہما ری اراضیات پر قبضہ کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں تنگ کیا جا رہا ہے کوئٹہ میں لاکھ ایکڑ ارضی ہونے کے باجود ہماری ارضیواں پر قبضہ کر نا سمجھ سے بالاتر ہے ، ہما ری اراضیات پر قبضہ بیو رکریسی میں کے بلبو طے کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں مار دیا جائے لیکن ہم زمین نہیں دیں گے ہائی کورٹ نے جج منٹ پاس کیا ہے یہ زمین قبائل کی ملکیت ہے تو پھر سر کا ر کیوں غیر قانونی حرکات پر اتر آئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہما ری شناخت 85 فیصد پہاڑوں سے ہے، ہماری اراضیات پر بدست زور مشکوک آرڈر سے قبضہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر سر کا ر کو زمین کی ضر ورت ہے تو ہم سے بات کی جائے ہم مدد کرنے کو بھی تیار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام مسائل سے متعلق تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے اور اگر اس صورتحال میں جانی ومالی نقصان ہوا تو اسکی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں