ریاستی ستون، قومی طبقات اور ملکی بقاء، شفاف نظام حکومت، ملکی ترقی کیلئے ناگزیر
تحریر: میر اسرار اللہ زہری
جمہوری نظام بنیادی طور پر تین ریاستی ستونوں کا مرکب ہے انتظامیہ (حکومت) مقننہ (پارلیمنٹ، قومی وصوبائی اسمبلیاں وغیرہ) اور عدلیہ (سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور دیگر ما تحت عدالتی نظام)۔ جدید جمہوری نظام میں بجا طور پر میڈیا کو (اس کے اہم کردار کی وجہ سے) چوتھا ستون مانا جاتا ہے، یہ تمام ستون بالواسطہ یا بلاواسطہ عوام سے جڑے ہوئے ہیں۔ مثلا مقننہ کی ترکیب میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا انتخابات عوام براہ راست کرتی ہے اور یہی منتخب ارکان اسمبلی، سینیٹ کے ارکان کا انتخاب کرنے کے علاوہ، اکثریت کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔
اگرچہ عدلیہ کرپشن اور دیگر معاشرتی برائیوں کو بزور قلم ختم کرسکتی ہے اسی طرح میڈیا عوامی رائے عامہ ہموار کرکے برائیوں کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتا ہے، مگر یہ دونوں ثانوی عناصر ہیں۔
برائیوں کے سدباب کیلئے بڑے ریاستی ستونوں کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہے۔ یہ بنیادی نقطہ قابلِ ذکر ہے کہ ہمیشہ نظام حکومت یا طرز حکومت کا ملکی ضروریات سے مطابقت رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر ہم دیگر ممالک سے پاکستان کا تقابلی جائزہ لیں تو بدقسمتی سے من حیث القوم، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اسکی قوم میں جذبہ حب الوطنی کا فقدان ہے اور اس کی بنیادی مروجہ نظامِ حکومت ہے جو قومی امنگوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
نظام حکومت اور اس کے ستونوں میں موجود مناصب تک پہنچنے کے لئے ایک شفاف طریقہ کار وضع ہونا چاہیے تاکہ شفاف طریقے سے پہنچنے والا فرد، نمائندہ اپنے فرائضِ منصبی شفاف طریقے سے ادا کرسکے۔ اور یقیناً غیر شفاف طریقے سے پہنچنے والا عہدے دار شفاف طریقے سے کام نہیں کرسکے گا۔ کنٹرولڈ جمہوریت اور کنٹرولڈ انتخابات کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس کیلئے شفاف انتخابی عمل کا ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ سیاسی جماعتیں کو اپنے منشور اور پروگرام کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگنے کا حق میسر ہو اور موقع حاصل ہونے کے باوجود ناکامی کی صورت میں میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ فلاں سیاسی پارٹی یا نمائندے نے جو وعدہ کیا وہ پورا کیا یا بصورت دیگر اگر پورا نہیں کیا تو اس کا حق نہیں پہنچتا کہ اس کو ووٹ دیا جائے۔ اس طرح میڈیا کا کردار حقیقی انداز میں پروان چڑھے گا اور حکومت تک پہنچنے کا معیار بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر ہوپائے گا۔ یقینا اس میں کچھ وقت درکار ہو سکتا ہے لیکن یہ بہتر کیا جاسکتا ہے۔
اس عمل کو بہتر بنانا اس لیے ضروری ہے کہ غلط نمائندگی اور غلط حکومت ملک کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ضروری نہیں اس کے اثرات فوری ہوں، مثلا ماضی میں غلط معاشی پالیسیاں بنائی گئیں، جس کا اثر آج ظاہر ہورہا ہے اور ملک شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔
بدقسمتی سے اس وقت جب غلط فیصلہ کیا جاتا ہے یا غیر مؤثر پالیسیاں بنائی جاتی ہیں اس وقت کوئی شخص، دانشور یا صحافتی برادری کوئی تنقید یا رائے نہیں دیتی تاکہ اس پالیسی کی بروقت بہتری یا تدارک کیا جاسکے۔ حالانکہ ہونا تو یوں چاہیے کہ جب غلط پالیسیاں تشکیل پا رہی ہوں اس وقت ملک کے دانشوروں اور محب وطن لوگوں کے ذریعے میڈیا پر بھرپور تنقید کی جانی چاہیے مگر ایسے معاملات عموماً ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر نظر انداز کردیے جاتے ہیں، بعد میں سر پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اسی طرح سیکورٹی سے متعلقہ معاملات کو زبردستی کنٹرول کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے اور یہ صرف اس وقت ہونا چاہیے جب معاملہ حد سے بڑھنے لگے۔ جیسے کوئی جرم کرنے پر آمادہ نظر آئے تو اس وقت ضرور کنٹرول کرنا چاہیے بصورت دیگر شدت کا جواب بحث مباحثے اور دلیل سے ملنا چاہیے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بعض لوگوں کا طرز عمل غلط ہے تو اس ملک میں دانشوروں اور محب وطن شخصیات کے ذریعے میڈیا پر بحث اور دلیل سے ناپسندیدہ افراد کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی جانی چاہیے بصورت دیگر مزید اقدامات اٹھانے کا سوچا جاسکتا ہے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ شفاف طریقے سے تشکیل پانے والی حکومت وہ بنیادی نقطہ ہے جو دیگر معاشرتی برائیوں مثلا کرپشن اور لاقانونیت کو جنم دینے میں کردار ادا کرتی ہے۔ کیونکہ غلط طریقے سے اقتدار میں آنے والا فرد، نمائندہ کچھ لوگوں کو تو نقد ادائیگی کرتا ہے اور باقیوں سے وعدے وعید کرتا ہے خاص طور پر جو اس کی قوم یا برادری کے لوگ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اقتدار میں آنے کے بعد ان لوگوں کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے وہاں پہنچایا جاتا ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے لئے کچھ کرسکیں بلکہ اپنے محسن کا خیال بھی خیال رکھیں۔ اس اقربا پروری کی وجہ سے لوگ غلط عہدوں پر تعینات ہو جاتے ہیں اور نہ صرف اپنی نااہلی کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں بلکہ وہ دوسری طرف اپنے ذرائع آمدن بڑھانے کیلئے ناجائز ذرائع کے درپے ہوتے ہیں۔ چنانچہ جو نقصان ملک کو شاید دہائیوں میں پہنچنا ہوتا ہے اس کے واضح اثرات چند ماہ میں شروع ہوجاتے ہیں۔ اس اقربا پروری کے نتیجے میں کرپشن اور بدعنوانی فروغ پانا شروع ہو جاتی ہے اور آج ہم ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہیں۔
ایسے حالات میں ہم صرف عدلیہ سے توقع کریں کہ وہ نظام ٹھیک کر دے گی یقیناً ناممکن ہے اور اسی طرح میڈیا سے توقع رکھی جائے کہ وہ ملکی مفاد میں شفاف طریقے سے رائے عامہ ہموار کرے گا تو یہ بھی ناممکن نظر آتا ہے۔ دراصل میڈیا میں بھی بہت سی خامیاں ہیں مثلاً میڈیا میں کتنے لوگ ہیں جو رائے عامہ بنانے کے تمام معیارات پر پورا اترتے ہیں، اکثر کے پاس تو مطلوبہ صحافتی اصولوں سے شناسائی نہیں ہوتی اورنہ ہی صحافتی معیار پر پورا اترتے ہیں، بلکہ وہ صرف میڈیا میں آکر اپنے تجربے کی بنیاد پر رائے زنی کرتے ہیں اور اپنا تجزیہ دیتے ہوئے بنیادی صحافتی معیار پر پورا نہیں اترتے اور عموماً وہی باتیں کرتے ہیں جو عام عوام کررہی ہوتی ہے اور عوامی رائے سے تجزیہ کر کے کچھ نتیجہ نکالنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
میرے نقطہ نظر میں ان امور پر سوچ بچار کی ضرورت ہے خاص طور پر اس ملک میں موجود تمام قومیتوں اور اکائیوں کو چاہیے کہ وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ لہٰذا تمام اکائیوں، قومیتوں کو چاہیے کہ وہ ملک میں پائی جانے والی تمام برائیوں کا تحمل، تدبر اور دلیل کے ساتھ مقابلہ کریں اور اس ملک کا ہر لحاظ سے سے دفاع کریں اور یقینا جتنی بڑی اکائی، قومیت ہے اس کی اتنی ہی زیادہ ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے اتنی ہی زیادہ مفادات وابستہ ہے۔


