پنجاب میں پسماندہ بلوچستان کے طلبا کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ کیا جائے، بلوچستان بار
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ممبر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان علی احمد کاکڑ نے کہا ہے کہ اسوقت پورے بلوچستان کے سینکڑوں طلبا پنجاب میں سکالر شپ پر زیر تعلیم ہیں مگر بدقسمتی سے پچھلے ایک دو ادوار میں بلوچستان کے طلبا کی سکالر شپ کیساتھ ساتھ پنجاب حکومت نے انکے مضامین کو بھی سکالر شپ سے نکال دیا ہے جو بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے طلبا کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ہے جس پر طلبا سراپا احتجاج ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی احمد کاکڑ نے مزید کہا کہ پنجاب میں ایک تنظیم منظم طریقے سے بلوچستان کے طلبا کو حراساں کرتے ہیں لیکن پنجاب حکومت وفاقی حکومت اور پنجاب پولیس اس پر خاموش ہیں 25اکتوبر کو پنجاب میں بلوچستان کے طلبا پشتون کلچر ڈے منا رہے ہیںجو کہ ان کا آئینی حق ہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 28میں ثقافت کو تحفظ حاصل ہے جسکے مطابق ہر شہری اپنی ثقافت کا اختیار رکھتا ہے لیکن یہ تنظیم بلوچستان کے طلبا کو پشتون کلچر ڈے منانے نہیں دے رہے ہیں اور انکو آئینی حق سے محروم کررہے ہیں اُنہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی کہ اس کا سوئی موٹو نوٹس لیں اور پنجاب حکومت پنجاب پولیس کو سختی سے ہدایت دیں کہ اس معاملہ کو خوش اسلوبی سے نمٹا دیں۔


