بھارت:انتہا پسند ہندوئوں نے 2 مسلمانوں کو شہید کردیا

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں ہندوانتہاپسندوں کے تشدد سے 2مسلمان شہید ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق ریاست کرناٹک کے علاقے دکشنا کناڈا میں 2مسلمان لڑکوں کو ہندو انتہاپسندوں نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا۔دونوں مسلمان لڑکے رمیز الدین اور رفیق گلیوں میں گھوم کر بیڈ شیٹیں فروخت کرتے تھے۔ اس دوران چند ہندو خواتین نے دونوں کو انتہائی کم قیمت پر چادریں فروخت کرنے پر مجبور کیا۔ مسلمان لڑکوں کے انکار پر ہندو انتہاپسندوں کے ہجوم نے دونوں کو گھیر لیا اور بدترین تشدد کیا،جس کے باعث رمیز اور رفیق زخموں تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ واقعے کے بعد پولیس حسب معمول دیر سے جائے وقوع پر پہنچی۔ تشدد کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے باجود پولیس نے کسی قاتل کو گرفتار نہیں کیا۔ دوسری جانب میرٹھ میں ہندو لڑکے کے ہراساں کرنے پر مسلمان طالبہ نے میڈیکل کالج کی چھت سے کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق میرٹھ میڈیکل کالج میں بی ڈی ایس کی 20 سالہ طالبہ وانیہ شیخ نے کالج کی چھت سے کود کر خودکشی کی کوشش ،جس کے بعد اس نے دوران علاج دم توڑ دیا۔ پولیس نے طالبہ کو ہراساں کرنے والے ہم جماعت سدھارتھ پنہور کو حراست میں لیا ۔ اس نے چند روز قبل سب کے سامنے طالبہ کی نہ صرف بے عزتی کی تھی بلکہ ایک تھپڑ بھی رسید کیا تھا۔ طالبہ کے موبائل سے سدھارتھ کے دھمکی آمیز پیغامات بھی ملے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں