نصیر آباد گرڈ اسٹیشن کی زمین پر مبینہ قبضے کیخلاف واپڈا ملازمین سراپا احتجاج

جعفرآباد (انتخاب نیوز) نصیرآباد میں گرڈ اسٹیشن کی زمین پر مبینہ قبضے کے خلاف واپڈا ملازمین سراپا احتجاج بن گئے، سیکڑوں ملازمین نے صوبائی صدر کی قیادت میں گرڈ اسٹیشن کے سامنے احتجاجی جلسہ منعقد کیا رپورٹ کے مطابق سیلاب کے بعد گرڈ اسٹیشن 220 کے وی کی زمین پر اہم شخصیت کی جانب سے گندم ذخیرہ کرنے اور مبینہ قبضے کے خلاف واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکر یونین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا واپڈا ہائیڈرو یونین نصیرآباد سبی اور کوئٹہ سرکل کے سیکڑوں ملازمین نے صوبائی صدر حاجی محمد رمضان اچکزئی کی قیادت میں گرڈ اسٹیشن کے سامنے احتجاجی جلسہ منعقد کیا اور زمین واگزار کروانے کا مطالبہ کیا ہے احتجاجی جلسے سے واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکر یونین کے صوبائی صدر حاجی محمد رمضان اچکزئی ، سبی سرکل کے چیئرمین حاجی محمد قاسم کھوسہ اور نصیرآباد سرکل کے چیئرمین ارشاد عمرانی ، جنرل سیکرٹری حاجی غلام یاسین کھوسہ، سب ڈویژن ڈیرہ اللہ یار کے چیئرمین محمد حسن لاشاری، جنرل سیکرٹری عقیل احمد کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیت نے گرڈ اسٹیشن کے لیے زمین کیسکو کو فروخت کی جس پر نصیرآباد ڈویژن کے پانچ اضلاع نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی، اوستا محمد اور دیگر علاقوں کو اوچ پاور سے بجلی کی فراہم شروع کی گئی تاہم حالیہ سیلاب کے بعد اہم شخصیت نے گرڈ اسٹیشن کی زمین پر گندم کا ذخیرہ کر کے زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بار اہم شخصیت کو زمین واگزار کرنے کی اپیل کی گئی تاہم وہ زمین واگزار کرنے کو تیار نہیں حاجی محمد رمضان اچکزئی نے کہا کہ ہم واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکر یونین کے پلیٹ فارم سے اہم شخصیت کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ 15 نومبر تک گرڈ اسٹیشن کی زمین واگزار کریں بصورت دیگر انکی رہائشگاہ کمشنر نصیرآباد کے دفتر یا پھر شاہراہ پر دھرنا دیا جائیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں