زمینداروں کو بجلی کے ریٹ بغیر ٹیکس اور فیول چارجز 5 روپے 30 پیسے فی یونٹ مقرر کیا جائے، کسان اتحاد

کوئٹہ (انتخاب نیوز) کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد حسین باٹھ نے کہا ہے کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ زمینداروں کو ریلیف پیکج کا اعلان کرے اگر فوری طور پر ان کے لئے پیکج کا اعلان نہ کیا گیا تو 4 نومبر کو وزیر اعلیٰ ہاﺅس کے سامنے ریڈ زون کو اور 5نومبر اسلام آباد میں ڈی چوک پر ملک بھر سے زمینداروں کے ہمراہ پیکج کی منظوری تک دھرنا دیا جائے گا، جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ صحافی ارشد شریف کی موت پر ہم میڈیا کے ساتھ ہےں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو بلوچستان کے سیلاب متاثرہ زمینداروں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میںپریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس سے قبل اسلام آباد میں اپنے دیئے جانے والے 10 روزہ دھرنے میں 4 مطالبات حکومت کو پیش کئے تھے کہ زمینداروں کو بجلی کا ریٹ بغیر کسی ٹیکس ، فیول چارجز کے 5 روپے 30 پیسے فی یونٹ مقرر کیا جائے اور زمینداروں کو اس بحرانی صورتحال سے نکالنے کے لئے فوری طور پر کسان پیکج کا اعلان کیا جائے۔ کیونکہ حالیہ بارشوں سے سیلاب کے باعث سندھ اور بلوچستان کی 70فیصد زمینداری فصلیں اور باغات تباہ ہوچکے ہیں تین ماہ قبل وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے زمینداروں کو مفت سولر فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جو کرپشن کی نذر ہوگئے ہیں زمینداروں کو بجلی کے واجبات کیلئے چھ ماہ کا وقت دیا گیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا اور بلوچستان میں کیسکو کی جانب سے زمینداروں کے ٹیوب ویلوں کی بجلی کاٹ دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف سمیت دیگر بیرونی اداروں اور ممالک سے ملنے والی امداد سے زمینداروں کو کچھ نہیں دیا گیا ۔ حکومت زراعت کو مستحکم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ۔ 5اکتوبر کو ملک بھر کے کسان دوبارہ اسلام آباد میں اپنے مطالبات کے حق میں کسان پیکج کی منظوری کے لئے دھرنا دینگے ۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے وعدے پورے نہیں کئے اس لئے ہم اپنے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی داد رسی اور کسان پیکج کی منظوری سمیت زمینداروں کو سبسڈائزڈ ریٹ پر بیج اور کھاد کی فراہمی کے لئے 4اکتوبر کو کوئٹہ میں وزیر اعلی ہاس کے سامنے ریڈ زون میں دھرنا دینگے ۔ بلوچستان کے زمینداروں کے واجبات 2ارب 10کروڑ ہیں وہ حکومت براہ راست کیسکو کو دے بلوچستان حکومت کے مختلف محکموں کے ذمہ کیسکو کے 37 ارب روپے کے واجبات ہیں۔5 اکتوبر کو ملک بھر کے کسان اپنے پیکج پر عملدرآمد کیلئے اسلام آباد پہنچےں گے ۔ ملک کو بچانے کیلئے کسانوں کو بچانا ہوگا 5روپے 30پیسے فی یونٹ بجلی کا نرخ دینے کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا ۔ کسانوں کو کھاد اور بیج نہیں مل رہا زمیندار مہنگے داموں خرید نے پر مجبور ہیں۔ ایران سے وہ اشیادرآمد نہ کی جائےں جو یہاں پید اہوتے ہیں ۔ حکومت اگر اپنے محکموں کے ذمہ کیسکو کے واجب الادا واجبات ادا کریں تو کیسکو زمینداروں کو ریلیف دے سکتی ہے ہم نے گزشتہ روز کیسکو چیف سے ملاقات کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے بلوچستان کے زمینداروں کے 10 روز تک بجلی کے کنکشن نہ کاٹنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے زمیندار مجبور ہیں انہیں فصلوں کی بوائی کے لئے بروقت کھاد، بیج اور پانی کی ضرورت ہے حکومت اس پر توجہ دیں اور جو پیکج کسانوں کے لئے بنایا گیا ہے اس کا فوری طور پر اعلان کریں اور پیکج کے ثمرات متاثرین تک منتقل کرنے کے لئے کسان اتحاد کو بھی مذکورہ کمیٹی میں شامل کیا جائے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو بچانے کے لئے زراعت کو وسعت دینی ہوگی اور زمینداروں کو ریلیف دیتے ہوئے ان کی مدد کرنا ہوگی کیونکہ 30 فیصد انڈسٹری جبکہ 70 فیصد کسانوں کی پیداوار سے ملکی کارخانے رواں دواں اور ضروریات پوری ہورہی ہے۔ ہم 4 نومبر کو کوئٹہ اور 5 نومبر کو اسلام آباد ڈی چوک پر دھرنا دیں گے اگر حکومت نے 10یوم میں ہمارے مطالبات پر عملدرآمد کرتے ہوئے کسان پیکج کو ریلیز کرکے نوٹیفکیشن جاری نہ کیا تو شدید احتجاج کریں گے اور نوٹیفکیشن تک دھرنا جاری رہے گا۔ ہم نے پہلے دھرنے میں 4 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ وفاقی حکومت کو دیا ہے تا حال انہوں نے اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا ہمسایہ ملک ایران سے پیاز منگواکر بلوچستان کے زمینداروں کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا گیا ہے اس طرح کی پالیسیوں اور اقدامات سے گریز کرنا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں