کویت میں اسرائیل سے تعلق جرم قرار دینے کی تجویز
کویت سٹی (ویب ڈیسک) کویتی رکان پارلیمان کی ایک بڑی تعداد نے اسرائیل اور اس کی تنظیموں کے ساتھ تعلقات استور کرنے پر پابندی کے قانون کی تجویز پیش کردی۔ ارکان نے کویتی اسمبلی کے اسپیکر احمد سعدون کو لکھے گئے خط میں اسرائیل کے ساتھ معاملات کو معمول پر لانے یا صہیونی ریاست اور اس کی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
خط میں کہا گیا کہ حکومت اس حوالے سے ٹھوس موقف اختیار کرے۔ اس سے قبل 27 مئی 2021 ء کو کویتی قومی اسمبلی نے ایک مسودہ قانون کی منظوری دی تھی جو اسرائیلی قابض ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے سے منع کرتا ہے۔ دسمبر 2021 ء میں کویت نے علاقائی پانیوں سے اسرائیل جانے والے تجارتی جہازوں کے گزرنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیل ، بحرین، متحدہ عرب امارات اور امریکا کی فوجوں نے بحرین میں مشترکہ مشقوں میں حصہ لیا۔ عبرانی ویب سائٹ واللاکے مطابق مشترکہ پیراشوٹ لینڈنگ اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کی 2 سالہ سالگرہ کے موقع پر کی گئی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیلی چھاتابرداروں نے خلیج میں کسی عرب ملک میں لینڈنگ کی ہے۔اس موقع پر بحرین میں اسرائیلی سفیر ایتان ناح بھی موجود تھے۔ عبرانی میڈیا کے مطابق 25 افسران اور فوجیوں پر مشتمل اسرائیلی وفد رواں ہفتے کے آغاز میں بحرین پہنچا تھا۔


