بلوچستان میں بد امنی کے واقعات میں 100فیصد اضافہ
اسلام آباد(این این آئی) پاکستان میں گزشتہ ماہ کے دوران دہشت گرد حملوں میں ستمبر 2022 کے مقابلے 7 فیصد کمی دیکھی گئی۔ خیبر پختونخواہ اور اس کے قبائلی اضلاع (سابق فاٹا) میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی جبکہ بلوچستان میں حملوں کی تعداد دوگنی ہو گئی۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 66 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس میں ملک بھر میں 38 مشتبہ مارے گئے اور 16 کو گرفتار کیا گیا،اسلام آباد میں قائم ایک آزاد تھنک ٹینک، پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ستمبر 2022 کے مقابلے اکتوبر میں دہشت گردوں کے حملوں کی تعداد میں 7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اکتوبر میں عسکریت پسندوں نے 39 حملے کیے ہیں۔ جس میں سیکیورٹی فورسز کے 12 اہلکار اور 16 عام شہری شہید گئے۔ حملوں میں 20 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 21 عام شہری بھی زخمی ہوئے۔ستمبر میں 42 حملوں میں 40 افراد جاں بحق اور 77 زخمی ہوئے تھے۔ سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے 297 واقعات ہوئے جن میں 437 افراد شہید ہو گئے جن میں 194 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار،191 عام شہری اور 706 افراد زخمی ہوئے جن میں 210 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 493 عام شہری شامل تھے۔ ستمبر 2022 کے مقابلے میں بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں 100 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا۔ اکتوب214Ž میں 14 شدت پسند حملے رپورٹ ہوئے جن میں 13 افراد شہید ہوگئے اور 21 زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مختلف مسلح تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ پکس نے خیبر پختونخواہ میں ماہ اکتوبر کے دوران ستمبر کے مقابلے میں دہشت گرد حملوں میں 31 فیصد کمی ریکارڈ کی۔ اکتوبر میں 13 حملے رپورٹ ہوئے جن میں 10 افراد شہید ہو گئے جن میں سیکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار بھی شامل تھے، جب کہ 11 دیگر افراد زخمی ہوئے۔


