سپریم کورٹ میں ریکوڈک معاہدے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت آج ہو گی
اسلام آباد(انتخاب نیوز)سپریم کورٹ میں ریکوڈک معاہدے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جمعرات 10 نومبر تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے۔ بدھ کو معاملہ کی سماعت۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ حکومت کو عوامی پالیسی کے معاملے میں امین کے طور پر شفافیت برقرار رکھنی چاہیے،معدنیات تلاش کرنے کا لائسنس حاصل کرنے والی کمپنی کو ہی اس کی کان کنی کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ نے ریکوڈک کا گزشتہ معاہدہ مناسب فزبیلٹی نہ ہونے پر کالعدم قرار دیا تھا،معدنیات کی کان کنی کا ٹھیکہ اس وقت منسوخ ہوگا جب انہیں دریافت کرنے والی کمپنی معاہدہ ختم کر دے،معدنیات کی رائلٹی پہلے دو اور اب پانچ فیصد ہے،بیرک گولڈ کمپنی کا گزشتہ لائسنس منسوخ ہو چکا اب اسے نیا لائسنس دیاجائے گا،انٹروفیگسٹا کمپنی کو 900 ملین ڈالر ادائیگی کے معاہدے ہر دستخط کے بعد نو ارب ڈالر جرمانے کا معاملہ طے ہو جائے گا،عدالتی فیصلوں میں کہا گیا ہے کہ شفافیت کے لئے منصوبوں کی بولی ہونی چاہیے،عدالتی فیصلوں میں کہیں نہیں لکھا کہ بولی کے بغیر منصوبوں میں شفافیت نہیں آسکتی،معدنیات کی تلاش اور کان کنی کے لئے بیرک گولڈ سمیت دنیا میں صرف ایک درجن کمپنیاں ہیں،بیرک گولڈ کا لائسنس منسوخ ہونے کے باوجود عدالتی فیصلے کے باعث کسی کمپنی نے پاکستان سے رجوع نہیں کیا،بلوچستان اسمبلی کو گزشتہ برس ریکوڈک کے نئے معاہدے سے متعلق نو گھنٹے بریفنگ دی گئی،بریفنگ کے بعد اس سال جون میں بلوچستان اسمبلی نے متعلقہ قوائد میں ترامیم کیں،گزشتہ ریکوڈک معاہدے میں بے شمار بنیادی خامیاں تھیں جنہیں نئے معاہدے میں دور کر دیا گیا ہے۔عدالت عظمی نے بعد ازاں معاملے کی سماعت جمعرات نو نومبر تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔


