کورونا، ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان، خطیر رقم کہا ں خرچ ہوئی، بی این پی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے حکومتی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ فاطمہ جناح ہسپتال کا آکسیجن پلانٹ ناقابل مرمت قرار دیے جانے کے بعد بھی حکومت لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔ طویل عرصے سے خراب آکسیجن پلانٹ کو تین مختلف فرمز نا قابل مرمت قرار دے چکی ہیں اس کے باوجود متعلقہ حکام الفاظ کے ہیر پھیر کا سہارا لے کر حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں، بیان میں کہا گیا کہ اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی اگر کرونا کے علاج کے لیے مختص کوئٹہ کے دو ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاسکیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی؟ ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم بارہا حکومت کی توجہ سہولیات کی عدم فراہمی کی جانب مبذول کراچکی ہے لیکن حکومتی اہلکار بے حسی کی عملی تصویر بنے کسی بھی طرح تجاویز پر عملدرآمد کے لیے تیار نہیں صرف اعدادوشمار کی جمع تفریق میں وقت ضائع کرکے عوام کی زندگیاں داؤ پر لگا رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن اور سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاحات میں عوام کو الجھانے کی بجائے حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کرے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کورونا وائرس کے ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور صوبائی حکومت نے کورونا وائرس سے وباء کو پھیلنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے صوبائی حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے وباء ملک میں پھیلی وباء سے کوئٹہ و بلوچستان کے عوام کو محفوظ رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کورونا سے متعلق بنیادی ضروریات اور ادویات فراہم نہیں کر پا رہی ان کے بلند و بالا دعوے صرف ٹویٹر اور سوشل میڈیا تک محدود ہے جھوٹ پر مبنی باتیں کرنا قابل افسوس ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ بی ایم سی ہسپتال میں وزیراعظم کو دورہ کروایا اس آئیسولیشن وارڈ میں نا کسی کا علاج کیا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا کیونکہ شیخ زید ہسپتال اور ٹی بی سینیٹوریم کورونا سے متعلق ڈکلیئر ہسپتال ہیں جب وہاں پر بہتر انتظامات متاثر کو فراہم نہیں کئے گئے تو انہوں نے بی ایم سی ہسپتال کے ایک وارڈ کا دورہ کر کے وزیراعظم اور عوام کو دھوکہ دیا ایسی حکومت سے کیا توقع رکھیں جو اس حساس معاملے جب پوری دنیا کو مشکلات کا سامنا ہے اور انسانی قیمتی کے ضیاع کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں اس کے باوجود حکومت ایسے اقدامات سے بھی گریز نہیں کر رہی ہے صوبائی حکومت نے شروع سے دورغ گوئی کا سہارا لیا اور اب بھی دورغ گوئی پر مبنی باتیں کررہی ہیں ٹی بی سینیٹوریم میں آکسیجن پلانٹ خراب اور ٹیسٹ کٹس اور ڈاکٹرز کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر سکی صوبائی حکومت کو اب حکومت کرنے کا جواز نہیں بنتا اس سے قبل قرنطینہ سینٹرز تفتان‘ ہزار گنجی‘ میاں غنڈی میں تھے ان سے بلوچستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں