میرے بھائیوں کو قتل کرنیوالے کوئٹہ پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جائے، متاثرہ خاندان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) کوئٹہ کے علاقے خلجی ٹاون کے رہائشی حاجی محمد نے صوبائی حکومت اور آئی جی پولیس سے اپیل کی ہے کہ بھوسہ منڈی میں فائرنگ کرکے انکے دو بھائیوں کو جاں بحق جبکہ انہیں زخمی کرنے والے اہلکاروں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ہمیں انصاف مل سکے بصورت دیگر عوام کے ساتھ ملکر احتجاج پر مجبور ہونگے۔ یہ بات انہوں نے شیرجان،سلیم اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور کوئٹہ ٹو چمن پرائیویٹ ٹیکسی چلاکر اپنے گھر کرگزر بسرکرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چار اکتوبر 2022ء کو تھانہ بھوسہ منڈی کے ایگل اسکواڈ اوردیگر عملے نے بغیر کسی وارنٹ کے چھاپہ مار کرچادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ہمارے گھر میں گھس کر فائرنگ کی اور مجھ سمیت میرے دو بھائیوں حبیب اللہ عرف سفری اور فدا محمد کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر نامعلوم جگہ پر لے گئے اور وہاں لے جاکر ہم تینوں بھائیوں کو زمین پر لٹا دیا اور فائرنگ شروع کردی جس سے میری ٹانگ میں 6گولیاں لگیں جبکہ میرے دونوں بھائی حبیب اللہ اور فدا محمد جاں بحق ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار مجھے اور میرے بھائیوں کو ڈیڑھ گھنٹے تک گاڑیوں میں گھماتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے بعد بھوسہ منڈی پولیس نے اپنے گناہ کو چھپانے کیلئے میرے بھائیوں کیخلاف 4 ناجائز ایف آئی آر درج کی ہیں، مقدمات میں جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ جھوٹ پر مبنی اور سراسر غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد ہم نے ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی لیکن بھوسہ منڈی پولیس نہ تو ایف آئی آردرج کررہی ہے اور نہ ہی ہماری درخواست لینے کیلئے تیار ہے، ہم نے ایس ایس پی اسد ناصر کو تحریری درخواست بھی دی لیکن تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعے صدر مملکت، وزیراعظم، گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ، چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور آئی جی پولیس سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو معاملے کی مکمل چھان بین کرے اور میرے بھائیوں کو جاں بحق اور مجھے زخمی کرنے والے پولیس اہلکاروں کیخلا ف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں