23 نومبر تک منگچر اور قلات کو گیس بحال نہ ہوئی تو شاہراہ بند کریں گے، آل پارٹیز کا انتباہ

منگچر (انتخاب نیوز) آل پارٹیز ایکشن کمیٹی منگچر نے منگچر قلات کو گیس سپلائی کی بحالی کے لیے 23 نومبر تک کا الٹی میٹم دیا ہے، 24 نومبر کو کوئٹہ کراچی شاہراہ بلاک کرکے غیر معینہ مدت تک دھرنے کا اعلان کردیا۔منگچر کو اس سخت سردی میں بھی گیس فراہم نہیں کی جارہی ہے اگر 23 نومبر تک گیس کی سپلائی بحال نہیں کی گئی تو 24 نومبر بروزِ جمعرات علی الصبح کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بلاک کرکے دھرنا دیں گے اور یہ احتجاج گیس کی سپلائی کی مکمل بحالی تک جاری رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کی جانب سے پریس کانفرنس سے جمعیت علما اسلام منگچر کے تحصیل امیر مفتی ابوبکر، بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر حفیظ مینگل، نیشنل پارٹی کے زاہد بنگلزئی، انجمن تاجران منگچر کے جنرل سیکرٹری ٹکری عبدالمالک نیچاری، مولانا عطا اللہ جگسوری، جمعیت طلبا اسلام قلات کے جنرل سیکرٹری حافظ سلیم زردی، پاکستان پیپلزپارٹی کے سلیم مینگل، مولانا محمد مراد، میرکبیر مینگل، جہانزیب لانگو، مولانا ثنااللہ ریاض قریشی، حافظ حسین احمد، احسان اللہ پندرانی، استاد حسن شاہوانی، ودیگر نے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوئی گیس بلوچستان صوبے سے نکل رہی ہے مگر بلوچستان کے لوگ اس سہولت سے محروم ہیں۔ قلات ضلع کا شمار ملک کے سردترین علاقوں میں ہوتا ہے ان علاقوں کے عوام کو زندگی بچانے کے لیے گیس کی ضرورت ہے لیکن دیگر بڑے بڑے شہروں میں سوئی گیس سے کارخانے اور سی این جی اسٹیشنز چل رہے ہیں ہمیں ایندھن کے لیے بطورِ اہم اور بنیادی ضرورت گیس نہیں دی جارہی ہے جو کہ ایک المیہ ہے ہم جمعیت علما اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، ودیگر تمام سیاسی جماعتوں کے بشمول حکومتی اور اپوزیشن نمائندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں کے اندر اور باہر ہر فورم پر بلوچستان کے سرد علاقوں میں گیس کی سپلائی جلدازجلد بحال کروانے کے لیے آواز بلند کریں انہوں نے ڈپٹی کمشنر قلات منیردرانی، سوئی سدرن گیس کمپنی بلوچستان کے جنرل منیجر بلوچستان ودیگر اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں اور انہیں الٹی میٹم دیتے ہیں کہ 24 نومبر تک منگچر قلات کو گیس کی سپلائی بحال کردی جائے ورنہ 24 نومبر کو تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کے ساتھ ملکر کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بلاک کردیں گے اور گیس کی سپلائی بحال ہونے تک احتجاج جاری رہے گا جس کی تمام تر ذمہ داری سوئی سدرن گیس کمپنی پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں