فورسز کو بھارتی آبدوزیں نظر آجاتی ہیں، سمندر پر تیرتے غیر قانونی ٹرالر نہیں، گن بوٹ کیا غریب ماہیگیروں کو مارنے کیلئے ہیں، حق دو تحریک
گوادر (انتخاب نیوز) سندھ سے بلوچستان میں مزدوری کے لیے آنے والے لوگوں کو گلے لگائینگے لیکن جو ڈاکو بن کر آئیگا اسکا مقابلہ کریں گے۔ کوئی ڈاکہ زن اگر کراچی کو بند کرسکتا ہے تو گوادر پورٹ کے مالک، پورٹ کو کیسے بند نہیں کرسکتے۔ محکمہ فشریز اور انتظامیہ کی یہ بات سو فیصد غلط ہے کہ سمندر میں ٹرالرنگ نہیں ہورہا۔ بلکہ آج بھی ٹرالرز موجود ہیں جو رات کی تاریکی میں ٹرالنگ کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے حق دو تحریک کے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں محکمہ فشریز کے ضلع گوادر میں پکڑے گئے تین ٹرالروں سے ہم مطمئن نہیں ہوں گے جب تک پچاس ٹرالر پکڑے نہیں جائینگے ہم کسی سے بات نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کراچی میں ٹرالر مالکان نے مشاورت کی ہے کہ بلوچستان میں ہم پر ظلم ہورہا ہے، ہم بھی بلوچستان کی مچھلیوں کو کراچی جانے نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹرالرز مالکان کو یہ واضح بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی حد میں رہیں، کراچی انکا نہیں وہاں پر آبادی بلوچوں کی ہے اگر آپ نے بلوچستان کی مچھلیوں کو کراچی جانے سے روکنے کی غلطی کی تو میں کراچی کے چالیس لاکھ بلوچوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ بھی نکل کر روڈوں پر آئیں۔ ٹرالرز والے بلوچستان میں ڈاکو نہیں غریب بن کر آکر مزدوری کریں تو ہم انکا ساتھ دینگے، انکی عزت کرینگے اگر وہ ڈاکو بن کر آئینگے تو انکا مقابلہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت بھی کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی کسی صورت سمندر کو تاراج ہونے دینگے اور نہ ہی ادارے انکی بلیک میلنگ میں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی جیونی میں 65 ٹرالروں کی نمبرنگ ہوئی ہے جبکہ ڈام، گڈانی، کنڈ ملیر، پسنی، اورماڑہ اور چربندر میں ٹرالر مچھلیوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔ ٹرالروں نے غیر قانونی شکار سے تقریباً 16 مچھلیوں کی نسل کو ختم کردیا، جو ہمارے باپ و دادا کے زمانے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیوی اور ایم ایس اے والے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے، انڈیا کی آب دوزوں کو پانی کے اندر سے دیکھا جاسکتا ہے لیکن سمندر کے اوپر موجود ان ٹرالروں کو ایم ایس اے نہیں دیکھ پار رہا۔ فورسز کے پاس موجود گن بوٹ کیا غریب ماہیگیروں کو مارنے کے لیے ہیں، اس سے مچھلیوں کی نسل کشی کرنے والے ڈاکوؤں کو تو نہیں مارا جارہا اور فورسز کہتے ہیں کہ ٹرالرز والے پاکستانی ہیں، ہم انکو نہیں مار سکتے تو پھر کیا حیات بلوچ پاکستانی نہیں تھا انکو والدین کے سامنے گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔ پاکستانی کے نام پر ہمارے جذبات کو کمزور نہیں کیا جاسکتا، جو پاکستانی بلوچستان کی سرزمین پر ڈاکہ زنی کرنے آئیگا ہم اس پاکستانی کے ہاتھ اور پاؤں توڑ دینگے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے ہسپتال کو انڈس ہسپتال کے حوالے کرنا ایک اچھا اقدام ہے لیکن گوادر کے لوگوں کو آج بھی علاج و معالجے کے لیے کراچی ریفر کیا جارہا ہے، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ انڈس ہسپتال گوادر میں تمام بیماریوں کے علاج کو ممکن بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال 14 اگست میں آتش بازی کے نام پر 94 لاکھ روپے خرچہ کیا گیا ہے جوکہ انتہائی ظلم و ناجائز ہے، ان 94 لاکھ سے اگر غریبوں کا علاج کیا جاتا تو کم از کم تین سو کے قریب کراچی جاکر اپنا علاج کراتے۔ آتش بازی ضروری نہیں ہے غریبوں کا علاج ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوسٹ گارڈ والوں کاکہنا ہے کہ پکڑی گئی کشتیاں اور گاڑیاں ایف آئی آر ہوچکی ہیں، انکو نہیں چڑا سکتے، لیکن کوسٹ گارڈ والوں کو معلوم نہیں کہ سپریم کورٹ نے بھی نوازشریف کو نااہل قرار دیا لیکن وہ ایک ہفتے بعد دوبارہ اہل ہوا۔ شراب سے بھرے پکڑے گئے سندھ کے وزیر کی گاڑی میں رپورٹ کو شراب کے بجائے شہد بنایا جاتا ہے تو اس ملک میں ایف آئی آر بڑی بات نہیں ہے۔ یہ ملک پاکستان ہے پاکستان کا آئین وہ آئین ہے کہ یہاں اسلام بھی ثابت ہوسکتا ہے اور کفر بھی۔ کوسٹ گارڈ فوری طور پر پکڑے گئے کشتیوں اور گاڑیوں کو چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کلانچی پاڑہ، نیا آباد اور دیگر علاقوں میں جھونپڑی بناکر رہائش کرنے والوں کو تنگ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غریب پچاس فٹ کی زمین پر رہائش پذیر ہیں انکو قبضہ گیر کہا جاتا ہے لیکن جنہوں نے چالیس ہزار ایکڑ اپنے نام کیے ہیں وہ قبضہ گیر نہیں ہیں۔ اگر کوئی غریب کسی کی خریدی ہوئی جگہ پر رہائش پذیر ہے تو یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے وہاں سے اٹھاکر متبادل جگہ دیں۔ سرکار کے پاس جگہ بہت ہیں یہاں تو سرمایہ داروں، کرنلوں، راولپنڈی، اسلام آباد اور کراچی میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو پچاس پچاس ایکڑ زمین تحفہ میں دی گئی ہیں جبکہ غریبوں کو پچاس و سو فٹ بھی زمین نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم کی صحیح و شفاف تحقیقات کی جائے تو نیو ٹاؤن کے بہت سارے افسران و ذمہ داران جیل جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ حق دو تریک کے کارکنان غریب لوگوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ بہت جلد دونوں گراؤنڈ کو حق دو تحریک کے حوالے کرنے والے ہیں اور بہت جلد ان دونوں گراؤنڈز میں نوجوان دوبارہ کھیلیں گے۔ 20 نومبر کو کفن پہن کر گوادر پورٹ بند کرنے جائینگے۔


