جنگجو تنظیم کی دھمکی کے بعد پانچ کشمیری صحافیوں نے استعفے دیدیے
سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی کشمیر میں ایک عرصے سے سکیورٹی فورسزکے دباؤ کا سامنا کرنے والے صحافیوں کو اب جنگجو تنظیموں کی جانب سے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ایک جنگجو تنظیم کی جانب سے دھمکی کے بعد پانچ کشمیری صحافیوں نے استعفی دے دیے۔ ایک عسکریت پسند تنظیم دی ریزسسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کی طرف سے ایک درجن سے زائد صحافیوں پر سیکورٹی فورسز کا مخبر ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے نام شائع کر دینے کے بعد رائزنگ کشمیر اور دیگر مقامی اخبارات کے لیے کام کرنے والے پانچ صحافیوں نے اپنی ملازمت سے استعفا دے دیا ہے۔ جموں کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں کے پیچھے مبینہ طور پر ٹی آر ایف کا ہاتھ ہے جو عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کی ایک شاخ ہے۔ ٹی آر ایف نے صحافیوں کو یہ دھمکی ٹیلی گرام اور واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعہ دی۔ یہ دھمکی ایک بلیک لسٹ ویب سائٹ کشمیر فائٹ پر بھی شائع کی گئی ہے۔ ٹی آر ایف نے جو فہرست شائع کی ہے ان میں صحافیوں کو پولیس، فوج اور خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ بتایا گیا ہے۔ فہرست میں جن 12 صحافیوں کے نام درج ہیں ان میں کئی چیف ایڈیٹر جیسے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور مشہور ہیں۔ انہیں پولیس کی سیکورٹی بھی حاصل ہے۔ تاہم کئی ایسے صحافی بھی ہیں جو نہ تو اونچے عہدوں پر فائز ہیں اور نہ ہی مشہور ہیں۔ ان میں سے کئی ایک نے تو کشمیر میں عسکریت پسندی یا فوج اور سیاست کے متعلق کبھی کچھ لکھا بھی نہیں ہے۔ ایک کشمیری صحافی نے کہا کہ ممکن ہے کہ چیف ایڈیٹرز کے علاوہ دیگر صحافیوں کو بھی نشانہ بنانے کے پیچھے عسکریت پسند تنظیم کا مقصد ان اخبارات کو پوری طرح معذور بنا دینا ہو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیر میں سن 2019ء میں جموں کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کردیے جانے کے بعد یہاں کے دو معروف اخبارات پوری طرح خفیہ ایجنسیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ انہیں بڑی تعداد میں سرکاری اشتہارات ملتے ہیں اور یہ تقریباً صرف اور صرف سرکار کا مؤقف ہی شائع کرتے ہیں۔ ان میں حکومت کی نکتہ چینی کو کوئی جگہ نہیں دی جاتی اور ان کے مالکان اور چیف ایڈیٹرز کو زبردست سیکورٹی بھی فراہم کی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صحافیوں کو دھمکی دیے جانے کے بعد سری نگر پولیس نے ٹی آر ایف کیخلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا ہے۔ بھارتی پولیس کے مطابق یہ ویب سائٹ مبینہ طور پر پاکستان سے آپریٹ کی جاتی ہے اور اس کے ذریعہ کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں اور کارکنوں کے خلا ف گندی مہم چلائی جاتی ہے۔


