گیس فراہم نہیں کرسکتے تو سدرن کمپنی بوریا بستر اٹھا کر بلوچستان سے نکل جائے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اسلم بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی بلوچستان کے عوام کیساتھ ایسٹ انڈیا کمپنی کا سلوک کررہی ہے۔ انہوں نے کہا جی ایم سوئی سدرن گیس کمپنی کا موقف قابل مذمت جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سردیوں میں بلوچستان کو گیس فراہم نہیں کرسکتے، کیا بلوچستان اس ملک کی کوئی کالونی ہے، یا ایک قومی وحدت ہے، سوئی گیس بلوچستان سے نکلتی ہے اس پر پہلا حق بلوچستان کا ہے اگر سوئی سدرن گیس کمپنی بلوچستان کو گیس فراہم نہیں کرسکتی تو اپنے دفاتر کو تالا لگا کر اپنا بوریا بستر اٹھا کر بلوچستان سے نکل جائے، بصورت دیگر سردی سے ٹھٹھرتے بلوچستان کے لوگ اس کے دفاتر کو آگ لگا دیں گے۔ اسلم بلوچ نے واضح کیا ہے کہ پنجاب میں فیکٹری اور سی این جی چلانے کے لیے گیس کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہمیں سردی سے اپنے بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے گیس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسلم بلوچ نے کہا کہ اگر ہڑتال کی ایک کال سے مستونگ میں گیس پریشر میں بہتری آتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گیس وافر مقدار میں موجود ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی دانستہ طورپر گیس پریشر کم کرکے لوگوں کا جینا دو بھر کردیا ہے۔ اسلم بلوچ نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو بلوچستان کے عوام کی زندگیوں سے کوئی سروکار نہیں، انہیں صرف بلوچستان کی سرزمین اور وسائل سے غرض ہے، یہ عمل ناقابل برداشت بنتا جارہا ہے، جس کو مقتدر قوتیں مذاق سمجھ کر سنجیدہ نہیں لے رہیں، انہیں سقوط بنگال سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اسلم بلوچ نے سوئی سدرن گیس کمپنی کیخلاف اور گیس فراہمی کے لیے پہیہ جام ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کا قبلہ درست کرنے کے لیے بھرپور احتجاج کے سوا کوئی رواستہ نہیں کیونکہ بلوچستان کی لنگڑی لولی نادار سرکار کو عوامی مشکلات کو کوئی احساس اور ادراک نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں