کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں گیس پریشر کا مسئلہ حل نہ ہوسکا ،عوام سراپا احتجاج
کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں گیس پریشر کا مسئلہ حل نہ ہوسکا ہر سال سردیوں کے موسم میں گیس پریشر میں کمی اور بندش کے خلاف عوام سراپا احتجاج رہتے ہیں اور سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کی جانب سے گیس پریشر میں کمی کے مسئلے کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن تا حال مسئلہ جوں کا توں ہے اس سال بھی ہر سال کی طرح سردیوں میں گیس پریشر میں کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس سال بھی کوئٹہ شہر میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے گیس حکام کے مطابق ہر سال قدرتی گیس فراہم کرنیوالی فیلڈز میں 10 فیصد کمی کا سامنا ہے تفصیلات کے مطابق شہر و گردونواح میں گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ برقرار ہے سوئی گیس نہ ہونے کے باعث ہوٹل مالکان نے ایل پی جی گیس کا استعمال شروع کردیا ہے گیس پریشر میں کمی اور بھاری گیس بلوں کی ادائیگی نے شہریوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے گیس نہ ہونے کی وجہ سے شہری ہوٹلوں سے مہنگے داموں ناشتہ اور کھانا خریدنے پر مجبور ہوچکے ہیں گیس کمپنی حکام کے مطابق صوبے میں گیس کی طلب 250 سے 260 ایم ایم سی ایف ڈی کے درمیان ہے جبکہ گیس کی رسد 200 سے 210 ایم ایم سی ایف ڈی کے درمیان ہے اس وقت ملک میں قدرتی گیس فراہم کرنیوالی فیلڈز سے اوسطا 10 فیصد گیس کی کمی کا سامنا ہے جسکی وجہ سے ہر سال صوبے کو 10 فیصد گیس کم فراہم کی جارہی ہے جس کی وجہ سے بڑھتی ہوئی طلب اور رسد میں کمی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔


