بلوچستان میں 2100 سو ایکڑ اراضی پر محیط جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا، محکمہ جنگلات
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان عبدالولی کاکڑ نے چارج سنبھالنے کے بعد گزشتہ روز وزارت موسمیاتی تبدیلی اور محکمہ جنگلات کے زیر انتظام چلنے والے پراجیکٹ ٹین بلین ٹریز سونامی وائلڈ لائف کمپوننٹ کا دورہ کیا جہاں پراجیکٹ ڈائریکٹر نیاز خان کاکڑ کنزرویٹر ایم اینڈ ای نعیم جاوید ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد ذوالفقار اور ڈپٹی کنزرویٹر کوئٹہ سٹی فواد صدیق نے انکا استقبال کیا۔ بعد ازاں اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری جنگلات عبدالولی کاکڑ، سید غلام محمد چیف کنزرویٹر ساوتھ ضیغم علی چیف کنزرویٹر نارتھ شریف الدین چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف بلوچستان، ٹی بی ٹی ٹی پی وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نیاز خان کاکڑ، فاریسٹری کمپوننٹ کے ڈائریکٹر علی عمران، کنزرویٹر ایم اینڈ ای نعیم جاوید، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹرٹی بی ٹی ٹی پی محمد ذوالفقار، نصراللہ مندوخیل، سید شراف الدین، فواد صدیق دوست علی نواز اور سید یار محمد سمیت دیگر نے شرکت کی اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے محمد نیاز خان کاکڑ نے کہا کہ ٹین بلین ٹریز سونامی پروگرام وائلڈ لائف کمپوننٹ کے تحت بلوچستان بھر میں 2019 تا 2022 میں جنگلی حیات کے تحفظ انکی افزائش نسل اور مقامی آبادیوں کے فلاح وبہبود کیلئے بلوچستان بھر میں اقدامات کئے گئے اس سلسلے میں بلوچستان کے مختلف مقامات پر 2100سو ایکڑ اراضی پر محیط جنگلی حیات کی رہائش گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا اور انکی افزائش کیلئے بھی اقدامات کئے گئے،28 مقامات کی مقامی آبادیوں کو نگہبان مقرر کیا گیا جس کامقصد جنگلی حیات کے تحفظ سمیت مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا اور مقاصد کے حصول میں بھرپور کامیابی ملی،مختلف اضلاع میں 3ایکو ٹوورازم ہٹس قائم کئے گئے، جنگلی حیات کی افزائش نسل کیلئے جگہوں کا مختص کرنا اور انکی دیکھ بھال ایک چیلنج تھی جس کیلئے مقامی آبادیوں کو ذریعے مختلف اضلاع میں 15بریڈنگ فارمز قائم کئے گئے جو نہایت کامیابی کیساتھ چلائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ نایاب جانوروں کی افزائش نسل کا سلسلہ بھی جاری ہے اور مقامی آبادی کوشامل کرنے سے انکا تحفظ بھی یقینی بنایا گیا ہے،جنگلی حیات کیلئے مختلف مقامات پر پانی کچے اور پکے 885تالاب بنائے گئے جہاں بارشوں کا پانی جمع رہتا ہے اور جنگلی حیات کیلئے پینے کا پانی ہر وقت میسر رہتا ہے۔ بلوچستان ہجرت کرکے آنے والے سائبیرین پرندوں کا مسکن ہے جہاں نایاب نسل کے پرندے سردیوں میں آکر قیام کرتے ہیں جن کے تحفظ اور انکو خوراک کی فراہمی کیلئے 20اسٹیجنگ ایریاز مختص کئے گئے،انہوں نے کہا کہ 5رامسار سائٹس کی مزید بہتری کیلئے اقدامات کئے گئے جبکہ 80افراد کو ٹاسک فورس میں عارضی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا جن کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ سمیت مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی بھی تھا، 1کمیونٹی گیم ریزرو کا قیام عمل میں لایا گیا، بلوچستان بھر میں مقامی آبادیوں کی ترقی اورفلاح و بہبود کیلئے چھوٹے پیمانے پر 71 منصوبے شروع کئے گئے، مختلف مقامات پر تین وائلڈ لائف کے دفاتر تعمیر کئے گئے، جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے 3ہٹس تعمیر کئے گئے انکا کہنا تھا کہ دیہی آبادی کی فلاح و بہبود کیلئے ایکو ٹوورازم کوفروغ دیا گیا، وینٹیج پوائنٹس پر 4چیک پوسٹیں قائم کی گئیں، مقامی آبادیوں کیلئے 7شمسی توانائی کے یونٹ لگائے گئے، ماحولیاتی تنزلی کو کم کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی نشاندہی کیلئے بلوچستان بھر کی مختلف یونیورسٹیوں کے 40 طلبا کو بھی منصوبے میں شامل کیا گیا، جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے 2 مخصوص علاقوں میں باڑ کی تنصیب عمل میں لائی گئی، 887فیلڈ لاٹس کی ترویج اور فروغ کیلئے اقدامات کئے گئے، ویٹ لینڈ کے قیام اور بہتری کیلئے 6 سائٹس پر اقدامات کئے گئے، 2سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کیلئے ابتدائی کام کئے گئے اور مقامی آبادیوں کے 6000جانوروں کی ویکسی نیشن بھی کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات عبدالولی کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان بھر میں جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ اورافزائش نسل کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں اس سلسلے میں حائل رکاوٹوں کو فی الفور دور کیاجائے انکا کہنا تھا کہ جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ محکمہ سمیت معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ جنگلات اور جنگلی حیات کو تحفظ دیکر ہی ہم اپنے معاشرے کو خوبصورت بنا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ کا عملہ و افسران تندہی سے اپنے فرائض انجام دیں اس سلسلے میں کوئی غفلت یا کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔وسائل کا درست استعمال سے ہی اہداف کا حصول ممکن ہے۔ محکمہ کے عملہ و افسران کو درپیش تمام مسائل حل کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کئے جائینگے۔


