پنجگور میں انجمن تاجران کے انتظامیہ سے کامیاب مذاکرات، سی پیک روڈ کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا
پنجگور (انتخاب نیوز) انجمن تاجران و ضلعی انتظامیہ کے درمیان سی پیک بندش کے حوالے سے مذاکرات کامیاب سی پیک روڈ کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ پنجگور میں انٹرنیٹ ڈیٹا، بارڈر بندش، بارڈر پر اشیاء خورونوش کی اجازت، انٹری پوائنٹ پر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ودیگر اہم مطالبات کے حق میں انجمن تاجران و ڈرائیورز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے 22 نومبر کو شہر بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا گیا جس میں دو دن تک انجمن تاجران و ڈرائیورز نے بازار میں ٹینٹ لگا کر دھرنا دیا لیکن ضلعی انتظامیہ کی خاموشی پر انہوں نے بازار کے جاری دھرنے کو سی پیک روڑ پر منتقل کردیا جہاں انہوں نے پنجگور کو مختلف صوبوں سے ملانے والے شاہراہ کو ٹریفک کیلئے بند کردیا گزشتہ دو روز سے جاری روڑ بلاک کو ختم کرنے کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کا ایک وفد ایس پی عنایت اللہ بنگلزئی اے سی پنجگور امجد حسین سومرو اے سی گوارگو اسد بلوچ کے ہمراہ انہوں نے دھرنے کے سربراہ انجمن تاجران کے صدر حاجی خلیل احمد دھانی ڈرائیورز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر رضا رئیس حاجی سعید اللہ محمد جان عبدالقدیر بلوچ و ثالثی کے حوالے سے حاجی ناصر و دیگر سے ملاقات کی ملاقات میں انہوں نے دھرنے کے تمام مطالبات کو حل کرنے کی دو تک حل کرنے کی یقین دہانی پر ہڑتال ختم کردی اور کل بازار پھر کھولنے کا اعلان کیا انہوں نے کہا ہے کہ ادارے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے ساتھ عوام کے بہتر روزگار انہیں ہر قسم کی سہولیات دینے کے زمہ دار ہیں انہوں نے کہا ہے کہ بارڈر کمیٹی پروم کے تحفظات دور کرنے کیلئے ان سے ملیں گے جیرک کو دوشمبے کو ان سے مل کر کھولیں گے انہوں نے کہا ہے کہ بارڈر کے کاروبار کو آسان بنانے کیلئے جس سے ہر فائدہ اٹھائے ان پر ہماری نظر ہے اس پر عملدرآمد کریں گے انہوں نے کہا ہے کہ عوام کے جو بھی مسائل ہیں وہ ان سے متاثر ہیں انہیں من و عن سے حل کریں گیانتظامیہ کو لوگوں کی پریشانیوں کا احساس ہے کہ وہ کس طرح اپنے گھر کو چلا رہے کئی ماہ سے گاڑیاں گھروں کے سامنے کھڑی ہیں انہیں ٹریفک پر لانے کیلئے کام جاری ہے اور اس حوالے سے عوام وکاروباری لوگوں کی تعاون کا بھی درکار ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے روزگار میرٹ پر چلے گا ایڈمنسٹریشن ہر معاملے پر ہر طبقے کو تعاون کرے گی انجمن تاجران نے کہا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوا تو پھر ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔


