افغانستان، قاتل کو مقتول کے والد نے سرعام گولی مار کر ہلاک کردیا، تین گولیاں ماری گئیں

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں پہلی مرتبہ قاتل کو مقتول کے والد نے سرعام گولی مار کرہلاک کردیا۔ افغان حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ کسی قاتل کو سرعام سزا دی گئی ہے، جبکہ مقتول کے والد کو افغان حکام کی جانب سے قاتل کو گولی مار کر ہلاک کرنے کی باقاعدہ اجازات دی گئی تھی۔ افغان حکومتی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اس شخص کو سرعام کھیلوں کے میدان میں لوگوں کے سامنے ہلاک کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق مقتول کے والد کی جانب سے قاتل کو تین مرتبہ گولی مار کر ہلاک کیا۔ مذکورہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب افغان حکام نے ججوں کو شریعت کے قانون کا مکمل نفاذ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ افغان حکومتی سربراہ کی جانب سے گزشتہ ماہ ہی حکم جاری کیا گیا تھا، جس میں ججوں کو سزائیں نافذ کرنے کا کہا گیا تھا۔ جن سزاؤں کا حکم دیا گیا تھا ان میں سرِعام موت کی سزا، ہاتھ کاٹنے اور سنگسار کرنے کی سزائیں شامل تھیں۔ افغان حکام نے جرائم اور ان سے متعلق سزاؤں کے بارے میں باضابطہ طور پروضاحت نہیں کی، جبکہ اب تک کوڑے مارے جانے کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں، جن میں متعدد افراد کو صوبہ لوگرمیں سرعام کوڑے مارے جانے کا واقعہ بھی شامل ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہے کہ افغان حکام نے عوامی سطح پر سرِعام سزا دینے کے اقدام کو قبول کیا جبکہ افغان حکومتی ترجمان کے مطابق سرِعام سزا دیے جانے کے موقع پر سپریم کورٹ جسٹس بھی وہاں موجود ہوتے ہیں۔ سرعام ہلاک کیے جانے والے شخص کا نام تاج میر ہے، جوغلام سرور نامی شخص کا بیٹا ہے۔ تاج میر کا تعلق افغانستان کے صوبے ہیرات سے ہے، اس نے مصطفی نامی شخص کو پانچ سال پہلے چاقو مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس شخص کو تین عدالتوں کی جانب سے سزا دی گئی تھی، سرِ عام سزا دینے سے پہلے ایک نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا جس میں لوگوں کو ایک کھیل کے میدان میں جمع ہونے کی دعوت دی تھی۔ مقتول کے والد نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان حکام نے قاتل کو معاف کرنے کی کئی بار درخواست کی لیکن وہ سرِ عام قتل کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں