پنجگور پریس کلب میں جے یو آئی کے زیر اہتمام مولانا رحمت اللہ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس
پنجگور (نمائندہ خصوصی) معروف عالم دین بانی مدارس محسن مکران سابق رکن قومی اسمبلی شیخ الحدیث استاذ العلماءحضرت مولانا رحمت اللہ کی یاد میں پنجگور پریس کلب اور جمعیت علماءاسلام کے تعاون سے میڈیا سیمینار ڈسٹرکٹ کونسل ہال پنجگور میں منعقد ہوا۔ مرحوم مولانا رحمت اللہ کی دینی سیاسی ملی وسماجی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ میڈیا سیمینار میں پنجگور کے دینی، سیاسی، سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سیمینار کے مہمان خاص جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری تھے جبکہ دیگر اعزازی مہمانوں میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما حافظ خلیل ساتکزئی، بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ، بی این پی عوامی کے مرکزی لیبر سیکرٹری نور احمد بلوچ، نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سابقہ صوبائی وزیر میر رحمت صالح بلوچ، جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر حافظ محمد اعظم بلوچ، حاجی عطاءاللہ بلوچ، حاجی زاہد حسین، پیپلز پارٹی کے ڈویژنل سیکرٹری آغا شاہ حسین بلوچ مسلم لیگ ن مکران کے صدر اشرف ساگر، منشیات کمیٹی اور سول سوسائٹی پنجگور کے صدر حاجی افتخار بلوچ، جماعت اسلامی کے امیر حافظ صفی اللہ بلوچ، مولانا نور محمد مدنی اور دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا رحمت اللہ مرحوم کی دینی، سیاسی وسماجی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی، مولانا رحمت اللہ کا کردار ایک کھلی کتاب کی مانند ہے، جس پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں، وہ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے، جو لوگ انہیں قریب سے جانتے تھے وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، پنجگور میں آج اگر دینی مدارس کا جھال پھیلا ہوا ہے یہ سب مولانا رحمت اللہ کی دینی خدمات کا نتیجہ ہیں۔ مقررین نے کہا کہ علم حاصل کرنا کوئی کمال نہیں بلکہ حاصل علم کو دوسروں میں منتقل کرنا باعمل ہونے کی نشانی ہے۔ مولانا رحمت اللہ نے علم حاصل کرنے کے بعد اسے بلوچستان کے کونے کونے میں پھیلایا، آج اگر پنجگور کی زمین دینی علوم کے حوالے سے زرخیز ہے، یہ سب مولانا رحمتِ اللہ کی جدوجہد اور کوششوں کا ثمر ہے۔ مقررین نے کہا کہ ہمیں اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر جانا چاہیے اسی میں ہماری کامیابی ہے ذاتی سیاسی سیٹ والیکشن جیسے مفادات کو بالائے رکھنا چاہیے۔ مولانا رحمت اللہ نے پنجگور میں دینی تعلیم عام کیا وہ ایک خیرخواہ اور امن پسند شخصیت کے مالک تھے، ہمیشہ لوگوں میں جاری جھگڑوں کے تصفیہ اور انکو آپس میں جوڑنے میں مصروف رہتے تھے، اس طرح کے خیر خواہ انسان بہت کم پیدا ہوتے ہیں، جو دوسروں کے دکھ درد بانٹنے میں اپنی توانائیاں خرچ کریں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مولانا رحمت اللہ ایک بڑا نام تھے جن کی نسبت علمائے دیوبند سے تھی، انہوں نے کہا کہ دوبند مدارس کے قیام سے قبل انگریز کی کوشش تھی کہ مسلمانوں کو جبراً عیسائی مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے مگر علمائے کرام نے دیوبند مدرسہ کا قیام عمل میں لایا۔ مولانا عبدالکلام آزاد اور دیگر جیئد علماءنے تعلیم کے ساتھ عدم تشدد کا فلسفہ اپنایا اور اپنی جہدوجہد کو سیاسی بنیادوں پر لیکر آگے بڑھے، تاکہ دنیا کل اسے کوئی اور نام نہ دے، مولانا حسین احمد مدنی نے فتویٰ دیا کہ انگریز کی فوج میں بھرتی حرام اور مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے، جب وہ انگریزی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ کفن اور موت کو گلے لگانے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بدعت، شرک، پیر پرستی کیخلاف مولانا رحمت اللہ نے اہم کردار ادا کیا۔ مولانا رحمت اللہ کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے یہ مدتوں تک پر نہیں ہوسکے گا۔ علماءیکجہتی، اتحاد واتفاق کا پیغام عام کریں، قوم پرستوں اور علمائے کرام کے موقف میں انیس بیس کا فرق ہے، ساحل وسائل اور لاپتہ افراد انسانی حقوق کے مسئلے پر سب کا موقف ایک ہے، دین اسلام نے ہمسائے کے حقوق پر زور دیا ہے، جمعیت کا یہی نقطہ نگاہ ہے کہ جہاں معدنیات نکل آئیں سب سے پہلے مقامی افراد پھر صوبے اور اسکے بعد وفاق کی ترجیحات کو دیکھا جاتا ہے، سب سے پہلا حق اس زمین پر بیٹھے لوگوں کا بنتا ہے۔


