بلوچستان اسمبلی بیکار ہے کسی کام کی نہیں، چوری چھپے قرار دادیں پاس کرنا منظور نہیں، اراکین
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اکبر مینگل نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک کے حوالے سے جلد بازی میں جو قرار داد منظور ہوئی ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، اس پارلیمنٹ میں بلوچستان کے عوام کو کوئی اہمیت نہیں، یہ اسمبلی بیکار ہے کسی کام کی نہیں، اگر زیادتیاں بند نہ ہوئیں تو حالات کو سنبھالنا مشکل ہو جائیگا، پینل آف چیئرمین نے نصر اللہ زیرے اور میر زابد ریکی کی عدم موجودگی پر ان کے سوالات موخر کر دیئے، رکن بلوچستان اسمبلی مولوی نور اللہ نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح چوری چھپے بلوچستان کے حوالے سے قرار داد منظور کرنا ہمیں کسی طرح منظور نہیں، 18ویں ترمیم کے تحت جو اختیارات بلوچستان کو ملے تھے اسے واپس وفاق کو دینا صوبے کے عوام کیساتھ زیادتی کے مترادف ہے ہم اس قرار داد کو مسترد کرتے ہیں، صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی نور محمد دمڑ نے حکومت کی جانب سے بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والی قرار دادپر اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرار دادقانون کے مطابق منظور کی گئی، سیکرٹری اسمبلی نے یہاں موجود تمام اراکین اسمبلی کو ایجنڈا ارسال کیا اس دوران رکن صوبائی اسمبلی میر عارف جان محمد حسنی نے کورم کی نشاندہی کی جس پر کورم کی گھنٹیاں بجائی گئیں، کورم پورا نہ ہونے پر پینل چیئرمین نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس، 16دسمبر جمعہ سہ پہر3بجے تک ملتوی کر دیا۔


