کابل، چینی ملکیتی ہوٹل پر حملے کی ذمے داری داعش نے قبول کرلی، واقعے میں 21 ہلاکتوں کی اطلاعات

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) کابل میں چینی ملکیتی ہوٹل پر گزشتہ روز ہونے والے حملے کی ذمے داری عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ گروہ داعش ISIS نے قبول کرلی۔ حملے میں داعش کے تین حملہ آور مارے گئے تھے، واقعے میں ہوٹل کے کم از کم دو مہمان زخمی ہوئے جب انہوں نے کھڑکی سے چھلانگ لگا کر فرار ہونے کی کوشش کی۔ کابل پولیس کے سربراہ خالد زدران نے کے مطابق حملہ کئی گھنٹے جاری رہا، جس کے بعد کلین اپ آپریشن ہوا۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے آئی ایس کے زیر استعمال عسکریت پسند ٹیلیگرام چینلز میں سے ایک کے ذریعے جاری بیان میں گروپ نے کہا کہ اس کے دو ارکان نے ہوٹل کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ اس میں اکثر سفارت کار آتے ہیں اور یہ ہوٹل کمیونسٹ چین کی ملکیت ہے۔ بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ آئی ایس کے حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ دو تھیلوں کو دھماکے سے اڑا دیا جو پہلے ہوٹل میں رہ گئے تھے، جن میں سے ایک مرکزی ہال میں تھا، اور ہوٹل کے ایک حصے کو آگ لگا دی۔ عسکریت پسند گروپ نے اپنے دعوؤں کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات تھیں۔ افغان حکام نے کہا کہ تین حملہ آور مارے گئے۔ آئی ایس کا دعویٰ ہے کہ اس کے صرف دو ارکان نے حملے میں حصہ لیا، ان کی شناخت نام سے کی اور ان کی تصاویر پوسٹ کیں۔ کابل کے ایمرجنسی ہسپتال نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اسے 21 ہلاکتیں موصول ہوئی ہیں جن میں تین افراد کی لاشیں بھی شامل ہیں۔ منگل کو چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے حملے کو فطری طور پر انتہائی سنگین قرار دیا اور کہا کہ چین کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ بیجنگ نے منگل کو افغانستان میں اپنے شہریوں کو اس حملے کے بعد جلد سے جلد ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں