اسلام آباد، پاکستان بار کونسل کے وفد کی چیف جسٹس عمرعطاءبندیال سے ملاقات

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان وکلاءمنتخب نمائندگان کے وفد ممبر پاکستان بار کونسل منیر احمد خان کاکڑ کے قیادت میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطاءبندیال سے اسلام آباد میں ملاقات کی ۔وکلاءنمائندگان وفد میں ممبر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد افضل حریفال بلوچستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی محمد ایوب ترین امان اللہ کاکڑ سبی ہائی کورٹ بار ایسوسی اشن کے جنرل سیکریٹری برکت علی خاصخیلی کوئٹہ بار کے جنرل سیکریٹری چنگیز حئی بلوچ نائب صدر عباس کاکڑ نے چیف جسٹس آف پاکستان کو بلوچستان کے وکلاءاور عوام کے درپیش مسائل سے آگاہ کیا وکلاءنمائندہ وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان کو بلوچستان میں عرصہ دراز سے غیر فعال سبی تربت خضدار اور لورالائی ہائی کورٹ کے بینچز کو ریگولر کرنے اور بلوچستان میں فیڈرل ٹریبونلز کو فعال بنانے جوڈیشل اکیڈمی میں وکلاءکو ٹریننگ دینے سمیت دیگر اہم مسائل کی طرف چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے رکھے وکلاءنمائندگان وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان سے کہا کہ عرصہ دراز سے بلوچستان کے وکلاءاور عوام سراپہ احتجاج ہیں بلوچستان کے پارلیمنٹرین نے بلوچستان ہائی کورٹ کے بینچز کو ریگولر کرنے کیلئے سینٹ اور اسمبلی کے فلور پر آواز بلند کی سینٹ کے اسٹینڈنگ کمیٹی نے بھی بلوچستان ہائی کے بینچز کو ریگولر کرنے کیلئے اجلاس منعقد کیا لیکن عوام کو ان بنیادی آئینی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے کچھ مہنے پہلے ان بینچز کے نام پر ججز تو تعینات کئے گئے لیکن ڈیوٹی دینے اور کوئٹہ سے باہر جانے کیلئے جج صاحبان تیار نہیں جبکہ دیگر تین صوبوں میں تمام ہائی کورٹ کے بینچز ریگولر بنیادوں پر فعال ہے اور جوڈیشل ورک کے ساتھ ساتھ ہر روز مختلف نوعیت کے کیسز دائر بھی ہوتے ہیں وکلاءنمائندگان وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے وکلاءتنظیموں نے بھی بلوچستان کے ہائی کورٹ بینچز کو ریگولر کرنے کیلئے احتجاج کیا اور قرار دادیں پاس کی اب چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلوچستان کے لوگوں کو وکلاءکو آئینی حقوق سے محروم کرنے کا فوری نوٹس لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں