بلوچستان اسمبلی کو غیر آئینی طریقے سے چلایا جارہا ہے، ریکوڈک کا خفیہ معاہدہ قانون کا حصہ نہیں بن سکتا، سکندر ایڈووکیٹ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف جمعیت علماء اسلام کے رہنماء ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ اسمبلی کے تقدس کو گزشتہ چار سال سے پامال کرتے ہوئے غیر آئینی طریقے سے چلایا جارہا ہے حالانکہ اس اسمبلی میں بلوچستان کے حقوق صوبے کے وسائل کو درست طریقے سے بروئے کار لانے اور ایک دوسرے کی عزت و احترام کی بات ہوتی تھی اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسمبلی کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے اس کے تقدس کا خیال رکھے اور اسمبلی کو بزنس رولز اور قوانین کے مطابق چلائے بلوچستان اسمبلی ہزار گنجی فروٹ منڈی بن گئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کہاکہ رواں سیشن کا پہلا اجلاس 12دسمبر کو طلب کیا گیا تاہم بعد میں اسے ری شیڈول کرکے 10 تاریخ کو طلب کیا گیا اور اجلاس کے ایجنڈے سے بھی اراکین اسمبلی کو بے خبر رکھا گیا کوئی ایسا ایکٹ جس سے متعلق اراکین اسمبلی کو علم نہ ہو کہ اس میں کیا لکھا گیا ہے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجے بغیر ایوان سے منظور کیا جائے وہ قانون نہیں کہلاتا آئین کے آرٹیکل 144کے تحت اسمبلی کو اختیار ہے کہ وہ وفاق کو منتقل کئے گئے اختیارات دوبارہ واپس لے سکتی ہے گزشتہ اسمبلی کے اجلاس میں ریکوڈک سے متعلق پاس کی گئی آئینی قرار داد سے بد اعتمادی پیدا ہوئی ہے آئینی قرار داد سے نقصان بلوچستان کو ہوگا اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے تاکہ سیاسی جماعتوں اور بلوچستان کے باسیوں میں پائی جانے والی تشویش دور ہوسکے۔ ملک سکندر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 144 اور 147 کے تحت اسمبلی کو چلانا چاہئے تاکہ کسی بھی منتخب نمائندے کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی بھی اقدام نہ اٹھایا جائے۔ بلوچستان کے مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے جو اختیارات وفاق کے سپرد کئے گئے ہیں انہیں واپس لینا چاہئے تاکہ اس پیدا ہونے والی ہیجان انگیز کیفیت کو ختم کیا جاسکے۔ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کے حصول اور عوام کے مسائل اور مشکلات کے تدارک کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ اس مسئلے پر وفاق اور بلوچستان میں ہماری جماعت نے ایک بار پھر ٹھوس اورواضح موقف اختیار کیا ہے کیونکہ یہ بلوچستان کی سرزمین سے نکلنے والے وسائل اور ان پر صوبے کے اختیار کا معاملہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں