ایران، احتجاج میں حصہ لینے پر 16 سالہ لڑکی کو 6 ماہ قید، تبریز جیل منتقل

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے جنوب مشرقی شہر زاہدان کی ایک عدالت نے 16 سالہ لڑکی نازنین احمدی کو مظاہروں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف پروپیگنڈاکے الزام میں 6 ماہ قید کی سزا سنا دی۔ایران انٹرنیشنل کے مطابق میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں سیکورٹی حکام نے یونیورسٹی کے طالب علم علی مرزا پور کو مشرقی آذربائیجان صوبے میں گرفتار کر کے ملک کے شمال مغرب میں واقع تبریز جیل منتقل کر دیا۔اسی احتجاج کے تناظر میں تہران سے آنے والے ویڈیو کلپس میں دکھایا گیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں میں سوار شہریوں نے ایک بس کی نشستوں پر حکومت مخالف نعرے لکھے ہیں۔ تحریروں میں خامنہ ای اور بسیج کے خلاف نعرے شامل تھے۔تین ماہ سیزیادہ عرصہ سے جاری اس احتجاجی تحریک کو مختلف ممالک کے سیاست دانوں اور سول کارکنوں کی جانب سے وسیع عالمی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں ایرانیوں نے یکجہتی کے لیے اپنے اجتماعات کا انعقاد جاری رکھا ہوا ہے۔ عالمی برادری نے مظاہرین میں سے بعض کو پھانسی دینے کی شدید مذمت کی۔ایرانی حکومت کی پرتشدد کارروائیوں کے باوجود زن، زندگی، آزادی کے نعرہ کے تحت شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔حکام کے مطابق تقریبا 20 ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا۔ 41 احتجاجی کارکنوں کو موت کی سزا سنائی جا چکی جن میں سے دو کی سزا پر عمل کرتے ہوئے انہیں پھانسی دے دی گئی ہے۔ سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد سے ایران کے خلاف بین الاقوامی غم و غصہ کی لہر دو ڑ گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں