شدید سردی میں بھی کوئٹہ کے شہریوں کو گیس کی عدم فراہمی کے باوجود سو فیصد بل وصول کیے جارہے ہیں، جے یو آئی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے رہنماؤں نے کہا ہے سردی کی شدت عوام زندگی بچانے کی دہائی دینے لگے ہیں، سو کے ہندسوں کے مطابق سودی بل وصول کرنے والی گیس کمپنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرے۔ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد جنرل سیکرٹری حاجی بشیراحمد کاکڑ سرپرست مولانا قاری مہراللہ شیخ مولانا احمد جان مولانا محمد ہاشم خیشکی مولانا محمد ایوب شیخ مولاناعبدالاحد محمد حسنی سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد سیکرٹری مالیات میر سرفراز شاہوانی سالار حافظ سید سعداللہ آغا میر فاروق لانگو حافظ مجیب الرحمان ملاخیل عبداللہ سلیمانخیل چوہدری محمد عاطف جمال الدین حقانی حافظ رحمان گل حافظ سردار محمد نورزئی حاجی صالح محمد مفتی ابوبکر ملک نصیر احمد ایڈووکیٹ حاجی عبداللہ سلیمان خیل اور دیگر نے مشترکہ بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردی کی شدت میں گیس کی عدم موجودگی عوام زندگی بچانے کا سوال کرنے لگے ہیں، ٹھٹرتے شہر کے معصوم عوام خواتین اور بچوں کو کس گناہ کی سزا دی جارہی ہے؟ پورے شہر میں گیس کی عدم دستیابی صوبائی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے گھروں کانظام زندگی درہم برہم ہے، اسی طرح دیگر علاقوں میں گیس پریشر کی کمی کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے، پورے پاکستان کو گیس فراہم کرنے والے چند لاکھ آبادی والے شہر کو گیس فراہم نہ کرنا ظلم ہے۔ اس سلسلے میں گیس حکام اور صوبائی حکومت کی بے حسی باعث شرم ہے جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے کوئٹہ شہر کے اکثر علاقوں میں گیس پریشر کی کمی پر نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سردی بڑھتے ہی گیس کا پریشر ختم ہوجاتا ہے اور بعض علاقوں میں نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے جس سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، بار بار احتجاج اور شکایت درج کرائی جاتی ہیں تو کوئی شنوائی نہیں ہوتی اسی طرح کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں گھریلو صارفین کو اسی قسم کی شکایات کا سامنا ہے تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، گھریلو معاملات بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور امور خانہ داری کی انجام دہی مشکل ہورہی ہے صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے اس حوالے سے تمام متعلقہ فورمز پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ آخری آپشن نہ ختم ہونے والا احتجاج ہوگا۔


