اوتھل اور بیلہ میں گنجان آباد علاقوں میں گیس سلنڈر دکانیں اور منی پیٹرول پمپس بدستور قائم
اوتھل (انتخاب نیوز) اوتھل اور بیلہ میں گنجان آباد محلوں اور شہر کے وسطی علاقوں میں گیس سلنڈرز کی فروخت اور بھرائی، اور پٹرول پمپ و ڈرموں کے زریعے پٹرول فروخت پر پابندی کا نوٹس ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔تفصیلات کے مطابق سانحہ بیلہ میں 22 افراد کے جاں بحق ہونے کے باوجود اوتھل اور بیلہ میں گنجان آباد محلوں اور شہر کے وسطی علاقوں میں گیس سلنڈرز کی فروخت اور بھرائی، اور پٹرول پمپ و ڈرموں کے زریعے پٹرول فروخت پر پابندی کا نوٹس ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا،ضلع لسبیلہ کے صدر مقام اوتھل میں کھلے عام اور بیلہ میں چوری چھپے گنجان آباد محلوں، گلی کوچوں میں غیر قانونی پٹرول پمپ اور ڈرموں میں پٹرول کی فروخت جاری ہے،انتظامیہ مزکورہ سلنڈر گیس شاپس اور غیر قانونی منی پمپ پر سلنڈر گیس اور پٹرول بیچنے کو نوٹس دے کر چپ سادھ لی۔کیا انتظامیہ کودوسرے سانحہ کا انتظار ہے بیلہ میں بھی چوری چھپے آبادی والے علاقوں میں پٹرول کی فروخت جاری، جبکہ اوتھل میں گیس سلنڈر کی دکانیں بھی تاحال شہر سے باہر منتقل نہیں کی جاسکیں۔ آگ بجھانے اور دیگر سیفٹی آلات کا فقدان ہے۔گیس سلنڈرز کی دکانوں میں آگ بجانے کے اور سیفٹی کے دیگر آلات بھی نصب نہیں ہیں۔اگر حکومت بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں گیس سلنڈرز اور غیرقانونی منی پٹرول پمپ اور جگہ جگہ گلی کوچوں میں ڈرموں کے زریعے پٹرول کی فروخت کو روکا نہ گیا اور آبادی سے دور منتقل نہ کیا۔اور سانحہ بیلہ سے سبق حاصل نہ کیاگیا تو ایسے واقعات کا اعادہ ہوسکتا ہے اور دوبارہ قیمتی جانوں کا زیاں ہوسکتا ہے۔عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ گیس سلینڈرز اور منی پٹرول پمپ شہر سے باہر منتقل کرکے آگ بجھانے اور ان شاپس پر کام کرنے والے افراد کے لئے سیفٹی آلات کو یقینی بنائے اور عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔


