بلوچستان، پولیس نے زیر انتظام علاقوں میں جرائم میں زبردست اضافہ
کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان میں رواں سال پولیس کے زیر انتظام علاقوں میں لیویز کے زیر انتظام علاقوں کی نسبت جرائم کے329فیصد زائدواقعات رونما ہوئے،صوبے میں پولیس کے زیر انتظام علاقوں میں 2991بکہ لیویز کے زیر انتظام علاقوں میں 696جرائم کے واقعات ہوئے،صوبے میں چوری ڈکیتی اور اقدام قتل کے واقعات کی شرح سب زیادہ ریکارڈ کی گئی۔محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جنوری تا نومبر 2022کے دوران ہونے والے جرائم کے واقعات کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں پولیس کے زیر انتظام علاقوں میں قتل کے 480،اقدام قتل کے 317،فسادات کے 317، زنا و زنا بلجبر کے 57،اغواء کے 206،چوری ڈکیتی کے 266،گاڑیاں چھیننے و چوری کے 213، موٹر سائیکل چھیننے و چوری کے 867، مویشی چوری کے 10جبکہ دیگر اقسام کی چوریوں کے 159واقعات رونما ہوئے، پولیس کے زیر انتظام علاقوں میں جان لیوا حادثات کے 178واقعات بھی رونما ء ہوئے۔محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے این این آئی کو موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جرائم کے کل واقعات کی تعداد 2907تھی جبکہ امسال 84واقعات کے اضافے کے ساتھ یہ تعداد 2991ہوگئی یوں پولیس کے زیر انتظام علاقوں میں جرائم کی شرح میں 2.8فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں لیویز کے زیر انتظام علاقوں میں اس سال قتل کے 291، اقدام قتل کے 116، فسادات کے 49، زنا،زنا بلجبر کا 1، اغواء کے 17، چوری ڈکیتی کے 31، گاڑیاں چوری، چھیننے کے 20، موٹر سائیکل چھیننے اور چووری کے 49،دیگر اقسام کی چوریوں کے 17جبکہ مویشی چوری کا ایک واقعہ رونما ہوا،اعداد و شمار کے مطابق لیویز کے زیر انتظام علاقوں میں جان لیوا حادثات کی تعداد 104رہی جبکہ امسال کل 696واقعات رونما ہوئے جو گزشتہ سال کے 666واقعات سے 30زائد ہیں لیویز کے زیر انتظام علاقوں میں اس سال جرائم کی شرح میں ساڑھے 4فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔محکمہ داخلہ بلوچستان کے اعداد وشمار کے مطابق اس سال قتل، زنا، اغواء،جان لیوا حادثات کے واقعات میں کمی رونما ہوئی ہے جبکہ اقدام قتل، چوری ڈکیتی، موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات میں اضافہ ہوا۔اعداد وشمار کے مطابق مجموعی طور پر سال 2022میں 3687واقعات ہوئے جبکہ سال 2021میں یہ تعداد 3573تھی۔


