گوادر میں حق دو تحریک کیخلاف کریک ڈاؤن بند اور گرفتار افراد کو رہا کیا جائے، بی ایس او
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آگنائزیشن کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین جنید بلوچ نے کہا ہے کہ گوادر میں گزشتہ دو ماہ سے جاری ماہی گیروں کے دھرنے پر دھاوا بول دیا گیا ہے، متعدد افراد کی گرفتاری مظاہرین پر شیلنگ فائرنگ اور لاٹھی چارج کرنا اور انکے کارکنوں کو لاپتہ کرنے کی مذمت کرتے ہیں، حکومت ان کے جائز مطالبات حل کرنے کی بجائے گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، تمام گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جنید بلوچ نے مزید کہا کہ ماہی گیروں کو آئینی مطالبات کی پاداش میں سنگین سزائیں دی جارہی ہیں، انکا سب سے بڑا مطالبہ غیر قانونی ٹرالنگ پر پابندی جو ایک قانونی مطالبہ ہے، منشیات کا خاتمہ چاہتے ہیں، بارڈر کے روزگار پر بندشوں کا خاتمہ چاہتے ہیں، لاپتہ افراد کے بازیابی چاہتے ہیں، پینے کا صاف پانی چاہتے ہیں، یہ تمام تر مطالبات جائز ہیں، حکومت زبردستی کے بجائے ماہی گیروں کے مطالبات تسلیم کرکے مسئلے کا حل نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک کے دھرنے پر لاٹھی چارج کر کے واجہ حسین واڈیلہ سمیت دیگر درجنوں کارکنوں کو جن کی تعداد 26 بتائی جاتی ہے، گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے، تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کر کے رہا کیا جائے اور مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے زور پر گوادر کے عوام کے جائز مطالبات کو دبایا نہیں جا سکتا بلکہ مذاکرات کے ذریعے ریاست انکے مسئلے کو حل کرے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت بلوچستان گوادر میں جاری کریک ڈاؤن کو بند کرے، بی ایس او کی جانب سے بلوچ حق دو تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔


