کوہ سلیمان کے جنگلات میں آتشزدگی سے چلغوزے کی فصل متاثر، پیداوار میں کمی سے تاجروں کو نقصان کا سامنا

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے علاقے کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے اور جنگلات میں آتشزدگی کے باعث چلغوزے کی فصل کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا، جس سے صوبے میں چلغوزے کی پیداوار میں نمایاں کمی ہونے سے لوگوں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، بلوچستان کے علاقے کوہ سلیمان اور شیرانی سمیت دیگر علاقے میں سالانہ تقریباً ساڑھے 3 ارب روپے مالیت کا چلغوزہ پیدا ہوتا تھا گزشتہ سال کوہ سلیمان اور شیرانی کے جنگلات میں ہونے والی آتشزدگی سے سینکڑوں کی تعداد میں چلغوزے کے پھلدار درخت جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو چلغوزے کی پیداوار میں کمی اور اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا ذریعہ معاش چلغوزے کی پیداوار اور اس کی ایکسپورٹ سے وابستہ تھا لوگوں کا کہنا ہے کہ چلغوزے کا ایک درخت سالانہ 7سے 8 کلو چلغوزہ دیتا ہے جس سے لوگوں کو تقریبا 15 سے 50 لاکھ روپے مالیت کا نقصان پہنچا ہے۔ ژوب میں چلغوزے کی عالمی منڈی میں پیدا ہونیوالے چلغوزے کو لاکر اس کو بھن کر اس کی خریدوفروخت بنائی جاتی ہے اورژوب سے پاکستان کے علاقوں راولپنڈی، پشاور، کراچی اور لاہور سمیت دیگر شہروں کو بھی بھیجا جاتا تھا گزشتہ کچھ عرصوں سے چائنہ میں چلغوزے کی ایکسپورٹ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں اس کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور افغانستان سے بڑی مقدار میں چلغوزہ چائنہ جارہا ہے جب کہ پاکستان میں 1996 میں پیدا ہونے والے چلغوزے کی قیمت فی کلو 200 روپے تھی اس وقت چلغوزہ چائنہ اور دیگر ممالک میں ایکسپورٹ ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت 6000 سے 7000 روپے فی کلو ہے جس کی وجہ سے خشک میوہ جات کے کاروبار سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بلوچستان سمیت کوئٹہ میں چلغوزے کی خریداری بہت کم ہورہی ہے اور شیرانی کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے چلغوزے کی پیداوار میں نمایاں کمی ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو بھی شدید مالی نقصان پہنچا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں