ٓآخری وقت تک پارٹی کو متحد کرنیکی کوشش کی،مختار یوسفزئی

مسلم باغ(این این آئی)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ اپنے آبائی شہر مسلم باغ پہنچے تو ان کا راستے میں مختلف مقامات پرتپاک استقبال کیا گیاضلع قلعہ سیف اللہ کے حدود کے شروع کان مہترزئی کے مقام پر اور کان مہترزئی شہر اور پھر مسلم باغ بازار میں انہیں موٹر سائیکلوں اور گاڈیوں کے طویل جلوس میں ملی شہید افغان شہیدعثمان خان کاکڑ کے مزار پر پہنچایا۔اس موقع پر پارٹی کے شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی، پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل خورشید کاکا جی،مرکزی سیکرٹری مالیات یوسف خان کاکڑ، پارٹی کے صوبائی سیکرٹری تعلیم و ثقافت بایزید خان اور صوبائی رابطہ سیکرٹری قیاس افغان،صوبائی ڈپٹی سیکرٹری خلیل خان ترین،ملک نسیم کاسی اور ہزاروں لوگ ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر ملی شہید عثمان خان کاکڑکی مغفرت کے لئے اجتماعی دعا کی گئی اور اس کے بعد پارٹی کے شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کو ان کے پشتون قومی تحریک میں بے مثال قربانیوں اور تاریخ ساز جدوجہد پر زبردست خراج عقید ت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ نے اپنی پوری زندگی پشتون غیور ملت کی سیالی،خودمختاری اورپارٹی کو منظم کرنے میں اہم رول ادا کیا انہوں نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے مزار پر کھڑے ہوکر کہا کہ ملی شہیدکے روح کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی زندگی میں پارٹی کیاندر آپ کے اصولی بیانیے ونظریے کے پرچار کرنے والوں کو جس طرح تکالیف پہنچائے گئے آپ کی شہادت کے بعد انہیں یتیم سمجھ کر انہیں مزید امتحانات سے گزرنا پڑا اور آپ کے ساتھیوں کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر ہم نے آخری حد تک پارٹی کے اتحاد و اتفاق کو قائم رکھنے کے لئے قربانی دی اور اس بات کا خدا پاک بھی گواہ ہے اور آپ کا روح بھی اس کا گواہ رہے گا مگر ہم آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ آپ کے پشتون افغان غیور ملت اور ملک کے محکوم و مظلوم عوام کے تاریخی بیانیے اور نظریات سے پیچھے ہٹتییا پھر آپ کے اصولی سیاست،تاریخی بیانیے،پارٹی کی آئین کا پاسداری اور پشتون قومی تحریک کو مزید قائم و دائم رکھتے تو آخر کار ہم نے اپنی قومی نظریات پشتون قومی تحریک کو بچانے اور اپنے سیاسی نظریے کو آگے بڑھانے کے لئے یہ بہتر جانا کہ ہم اپنی اس تحریک کو مزید آگے بڑھائیں اور آپ کے عظیم شہادت کے برکت، آپکی تحریک اور آپ کے نظریات و تاریخی بیانیے کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ آپ کی عظیم شہادت کی بدولت اس تحریک کو بچا لے اور پھر 28،27 دسمبر 2022کو ہم نے ایک تاریخ ساز قومی کانگریس کا انعقاد کیا۔حقیقت یہ ہے کہ کبھی کابل میں شاعر ملنگ جان نے کہا تھا کہ” عجب محفل دے راٹول سوی عزیزان پکی، او سنگہ بہ شہ وہ چی وو فخر افغان پکی "ہمیں اس تاریخی کانگریس میں صرف آپ کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہورہی تھی اور ہم نے کانگریس میں بھی یہ وعدہ کیا تھا اور ا ٓج آپ کے مزار اور روح سے یہ وعدہ کرتے ہیں اور اپنے رب ذوالجلال اور اپنے شہیدوں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ آپ نے جس عظیم مقصد کے لئے اپنے سر کا نذرانہ پیش کیا ان عظیم مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے آپ کی عظیم قربانیوں کی طرح ہم بھی ایک مصمم ارادے کے ساتھ زندگی کی آخری سانس تک یہی جدوجہد کرینگے اور اپنی سروں کا نذرانہ پیش کرینگے

اپنا تبصرہ بھیجیں