وزیر آباد واقعہ لانگ مارچ میں جان ڈالنے کیلئے خود کیا گیا، ملزم نوید کے وکیل کا دعویٰ
لاہور (انتخاب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے گرفتار ملزم نوید بشیر کے وکیل میاں دائود ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سینیٹر اعجاز چوہدری کی ٹویٹ کو دیکھیں، فارنزک سائسنس ایجنسی کی رپورٹ کو دیکھیںتوجے آئی ٹی کی ساری کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ سارے کا ساراوقوعہ پلانٹڈ تھااور اپنے سیاسی مقاصد کے لئے تخلیق کیا گیا تھا ،واقعہ لانگ مارچ میں جان ڈالنے کیلئے خود کیا گیا ۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت میںجمع نہیں ہوئی تو پھر عمران خان اور پی ٹی آئی کے صوبائی وزراء اور فواد چوہدری کے پاس کیسے پہنچ گئی۔کنٹینر سے گولی گزرنے کاکوئی سوراخ موجود نہیں، پھر ہوا میں سے آکر توعمران خان کی پنڈلی میں گولی نہیں لگی، عمران خان کو گولیوںکے چھرے لگے ہی نہیں۔ ملزم نوید کا مزید ریمانڈ دینے کی ضرورت نہیں۔ کنٹینر سے گولی چلنے کی آواز آئی اس حوالہ سے تحقیقات کی جائیں۔ان خیالات کااظہار میاں دائود ایڈووکیٹ نے پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔ میاں دائود ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی خواہش پر جے آئی ٹی تبدیل کی جاتی ہے،کیس خراب کیا گیا، واقعہ کی بنیادی معلومات اورشواہد ضائع کئے گئے ۔ واقعہ کہ جگہ پر کوئی دوسرا یا تیسرا شوٹر نہیں تھا۔ عمران خان کے گارڈز کی وجہ سے معظم گوندل کا ہونے والا قتل ملزم نوید پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماسینیٹر اعجازچوہدری نے عمران خان پر حملے سے ایک دن پہلے ٹویٹ کی کہ عمران خان پر حملہ ہونے جارہا ہے، اعجاز چوہدری کو گرفتار کر کے پوچھیں کہ آپ کو کس نے بتایا تھاکہ عمران خان پر حملہ ہونے جارہا ہے، اگر عمران خان کو پتا چل گیا تو پھر اس پر حفاظتی اقدامات کیوںنہ کئے۔ڈی پی اوکا بیان ہمارے ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں انہوں نے پی ٹی آئی سے سکیورٹی انتظامات کرنے کا کہا تھا، وہ اس وجہ سے نہیں کئے کہ سانحہ وزیرآباد سارا پی ٹی آئی کا اپنا ڈیزائن کردہ تھااس کے علاوہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ میرا مئوکل جب پکڑا گیا ہے تو پی ٹی آئی کہتی ہے کہ ہم اس کی اعترافی ویڈیو کو نہیں مانتے اور ہم اس کی فلاح والی ویڈیو کو مانتے ہیں توپھراس کو گرفتار کرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی ویڈیو بھی مانیں ورنہ اس کے بیانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ میاں دائود ایڈووکیٹ نے کہا کہ سوال یہ پوچھا جانا چاہیئے کہ عمران خان پر حملے کا بینیفشری کون ہے، اس پورے واقعہ کا بینیفشری عمران خان ہے ، پورا پاکستان جانتا ہے اور پورے میڈیا نے کور کیا کہ ان کا لانگ مارچ فلاپ ہو گیا تھا، بندے ان کے لئے نہیں نکل رہے تھے وہ ایکسپوز ہو چکے تھے، ان کو دوبارہ سے اٹھانے کے لئے یہ ان کے پلان کا حصہ تھا، اسی لئے انہوں نے حملہ کرویااورتین نومبر سے لے کر اب تک عمران خان کے جعلی زخم لے آتے ہیں اور پھر اس کی مارکیٹنگ شروع کردیتے ہیں۔ ZS


