پی سی بی کا منفی رویہ بلوچستان کے نوجوان کھلاڑیوں کیلئے مایوس کن ہے، بلوچستان حکومت

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے کرکٹ سیریز میں بلوچستان کے کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے پر صوبائی حکومت کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے ترجمان حکومت بلوچستان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے وکٹ کیپر /بیٹسمین حسیب اللہ خان کو پاکستان کپ کا بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملنے کے باوجود ون ڈے ٹیم میں شامل نہ کرنا زیادتی ہیماضی میں بھی ہمیشہ بلوچستان کے کھلاڑیوں کو نظر انداز کرکے انکی صلاحیتوں کا ضیاع کیاگیاترجمان نے کہا کہ پی سی بی کی بلوچستان کے ساتھ امتیازی پالیسی پر وزیراعظم سے بات کرینگے بلوچستان کے ٹیلنٹ کو کبھی بھی قومی سطح پر آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا جاتا نجم سیٹھی کی قیادت میں پی سی بی کی نئی مینجمنٹ سے انصاف کی توقع تھی ترجمان نے کہا کہ چیف سلیکٹر شاہد آفریدی ویسے تو چیریٹی کے لیے بلوچستان آتے ہیں لیکن چیریٹی سے زیادہ بلوچستان کو اسکا حق دینے کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پی سی بی نے کوئٹہ میں پی ایس ایل کے دو میچوں کے انعقاد کا وعدہ کیا تاہم یہ امر باعث افسوس ہے کہ پی سی بی اپنے اس وعدے سے بھی پیچھے ہٹ گیااور پی سی بی کی جانب سے کوئٹہ میں صرف ایک دوستانہ میچ پر اکتفا کرنے کا کہا گیا ہے – ترجمان نے کہا کہ پی ایس ایل سے میچوں کے انعقاد کے لئے ایک معاہدے کے تحت صوبائی حکومت نے پی سی بی کے کرکٹ گراؤنڈ کی مرمت و آرائش کے لیے فنڈز کا اجراء بھی کیا حالانکہ گراؤنڈ کی کی مرمت تزئین و آرائش پی سی بی کی ذمہ داری ہے لیکن صوبائی حکومت نے صوبے کے کرکٹ شائقین اور نوجوان ٹیلنٹ کی خاطر ہر ممکن تعاون کیا پی سی بی کا منفی رویہ بلوچستان کے عوام اور نوجوان کھلاڑیوں کے لئے مایوس کن ہے صوبائی حکومت اپنا کیس وفاقی حکومت کے ساتھ بھرپور طور پر اٹھائی گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں