کوئٹہ میں مہنگائی، بیروزگاری اور حق دو تحریک کے سربراہ کی گرفتاری کیخلاف جماعت اسلامی کا احتجاج
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جماعت اسلامی بلوچستان کے زیر اہتمام مرکزی امیر سراج الحق کی کال پر بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری اور جماعت بلوچستان کے جنرل سیکرٹری حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن کی گرفتاری کیخلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان کے نائب امیر مذہبی اسکالر ڈاکٹرعطاء الرحمن اور ضلعی امیر کوئٹہ حافظ نور علی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے بینرز پلے کارڈ اور پارٹی کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حکومت اور پولیس انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے، انہوں نے حق دو تحریک گوادر کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن اور انکے دو ساتھیوں نصیب شیروانی اور حسن مراد کو جمعہ کے روز عدالت میں پیشی کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس گوادر کی جانب سے عدالت کے احاطے سے گرفتار کر کے بکتربند گاڑی میں تھانے منتقل کر دیا حالانکہ مولانا ہدایت الرحمن نے عدالت میں جج کے سامنے پیش ہو کر گرفتاری دینے کا اعلان کیا تھا، اور گرفتاری کے حوالے سے اپنے سماجی رابطہ کے ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اپنا بیان جاری کیا تھا کہ وہ گرفتاری دینے کیلئے گوادر پہنچ رہے ہیں، یاد رہے کہ حق دو تحریک کے دھرنے کے دوران پولیس کے اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں اور کارکنوں کی گرفتاریاں بھی ہوئیں، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور تحریک کے گرفتار رہنماؤں کیخلاف مختلف نوعیت کے مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں، مقررین کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور غلط اقدامات کی وجہ سے ملک بھر کی طرح صوبے میں بھی گندم اور آٹے کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے، لوگ آٹے کے حصول کیلئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، جبکہ حکمرانوں کو عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں، آج جماعت اسلامی مرکزی امیرسراج الحق کی کال پر ملک بھر کی طرح کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں کہ حکمران اپنی شاہ خرچیاں ختم کر کے مثبت پالیسیاں اپناتے ہوئے لوگوں کو سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دے سکیں،بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، اور حکمرانوں کو عوام کی مشکلات سے کوئی سرکار نہیں، لوگ اپنے بچوں سمیت آٹے کے حصول کیلئے خود کشیاں کر رہے ہیں، لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی اگر یہی روش برقرار رہی تو ہم اپنے احتجاج میں شدت لائیں گے اور حکومت فوری طور پر اس مسئلے کے حل کو یقینی بناتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن اور دیگر گرفتار رہنماؤں کو رہا کرے، مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔


