وندر ڈیم نقشے میں سیاسی بنیاد پر تبدیلیاں، 7 ارب کی لاگت 12 ارب کردی گئی، صالح بھوتانی
وندر (آن لائن) وندر ڈیم کے نقشے میں سیاسی بنیادوں پر تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کو فوری طور پر ختم کیا جائے 7 ارب میں تعمیر ہونے والا ڈیم 12 ارب تک پہنچ گیا جس سے قومی خزانے کو 5 ارب کا اضافی بوجھ برداش کرنا پڑ رہا ہے وندر ڈیم کی تعمیر سے متاثر ہونے والے گوٹھوں کے مکینوں کو معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دوسری جگہ پر منتقلی کے لیے زمین الاٹ کی جائے گی متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی ڈپٹی کمشنر حب کے ذریعے کیا جائے گا سینئر صوبائی وزیر بلدیات بلوچستان سردار میں صالح بھوتانی اور لسبیلہ گوادر سے منتخب رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی کا وندر ڈیم منصوبے کا دورہ اس موقع پر ایری گیشن حکام کی جانب سے انکو بریفنگ دینے کے لیے تقریب کا انعقاد کیا گیا ڈائریکٹر ایری گیشن ناصر مجید نے سردار محمد صالح بھوتانی اور محمد اسلم بھوتانی کو وندر ڈیم منصوبے کے حوالے سے مکمل بریفنگ دی اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر بلدیات بلوچستان سردار محمد صالح بھوتانی نے کہا کہ آج کل عجیب سا رسم چل رہا ہے کہ چند لوگ کی طرف سے دوسروں کی منظور شدہ پروجیکٹس کو اپنے کھاتے میں ڈال کر داد وصول کرنا اور اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ آپ سب لوگوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ یکم جنوری 2010 کے دن اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے وندر ڈیم کے پروجیکٹ کے تعمیراتی کام کا سنگ بنیاد کا افتتاح کیا تھا انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی آپ لوگوں میں سے بہت سے لوگ موجود تھے جنکی تعداد 10 ہزار سے بھی اوپر تھی اور اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی عبدالقادد گیلانی بھی اس افتتاحی تقریب میں شریک تھے وندر ڈیم کے پروجیکٹ کی منظوری میرے بھائی سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی موجودہ ایم این اے لسبیلہ کم گوادر محمد اسلم بھوتانی کی مرہون منت ہے جو کہ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں منظور کیا گیا کنسٹرکشن کمپنیوں کی آپس کی چپقلشوں اور عدالتی چارہ جوئی کی وجہ ڈیم کا پروجیکٹ کھٹائی کی نظر ہوگیا جو ڈیم 7 ارب روپوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والی تھی وہ 12 ارب روپوں تک جا پہنچی جس سے قومی خزانے کو 5 ارب روپوں کا اضافی بوجہ برداش کرنا پڑ رہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومتیں تو بدلتی رہتی ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسری حکومت کے آنے سے سابقہ حکومت کی جاری کردہ پروجیکٹس کو آنے والی حکومت ہائی جیک کر کے اپنے کھاتے میں ڈال کر عوام سے داد وصول کرے سیاسی بنیادوں پر ڈیم کے نقشے میں تبدیلیاں کر کے ہمارے لوگوں کی اراضیات کو ڈیم کے پانی سے مستفید ہونے سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی محکمہ ایریگیشن کے ڈائریکٹر کی جانب سے دی گئی بریفینگ میں اس وقت کہا جا رہا ہے کہ نہیں وندر ڈیم کے پروجیکٹ کے نقشے میں تبدیلیاں نہیں کی گئی ہیں اگر وندر ڈیم پروجیکٹ کے نقشے میں تبدیلیاں نظر آئیں تو اس کی سختی سے پوچھ گھچہ کی جائے گی اور ذمہداروں سے سختی سے پیش آیا جائے گا انہوں نے کہا کہ وندر ڈیم پروجیکٹ سابق صدر آصف علی زرداری اور میرے بھائی سابق اسپیکر و موجودہ ممبر قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی کی جانب سے وندر کے لوگوں کے لیے تحفہ ہے انہوں نے کہا کہ ڈیم کی تعمیر اور کینالوں کی تعمیر 2010 کے سروے کے مطابق کیا جائے گا اس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ وندر ڈیم سے 10 ہزار ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جائے گا جو کہ بلا تفریق اور بغیر کسی سیاسی وابستگی کے کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ وندر ڈیم کی تعمیر سے متاثر ہونے والوں کو معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دوسریی جگہ پر آباد کرنے کے لیے اراضی فراہم کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ڈیم کی تعمیر کے بعد ڈیم کو سنبھالنے کی ذمہداری جب اریگیشن بلوچستان کے سپرد کیا جائے گا تو ڈیم میں نکلنے والی نوکریاں مقامی لوگوں کو دی جائیں گی تمام چھوٹے ملازمین مقامی لوگ ہوں گے انہوں نے کہا کہ زراعت کو فرسودہ نظام سے نکال کر جدید طرز پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے زمینداروں کو حکومتی سطح پر اپنی کچھی نالیوں کو پختہ کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ زمینداری میں بھی جدت آئے اور پانی کا بھی بچت ہو انہوں نے کہا کہ لسبیلہ میں دوسرا ضلع حب بننے کے بعد لوگ ہر جگہ کہتے ہیں کہ بھوتانی برادران ضلع حب میں اپنی جاگیرداری قائم کرنا چاہتے ہیں اور حب کو دوسرا دریجی بنانے کی خواہش رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے دریجی ہی کافی ہے حب ضلع آپ سب کا ہے اس پر حق یہاں کے رہائشی قدیمی قبائل کے لوگوں کا تھا اور رہے گا ہم آپ لوگوں کے منتخب کردہ نمائندے ہیں اور آپ لوگوں کے سامنے جوابدہ ہیں ہم نہیں کہتے کہ ہم سے کوتاہی نہیں ہوئی ہم بھی آپ جیسے انسان ہیں ہم سے بھی کوئی کوتاہی ہوئی ہوگی ہمارا اور آپ کا ساتھ سالہ سالوں کا ہے اور ان شااللہ یہ ساتھہ اور ہمارے درمیان میں محبتوں کے رشتے نسل در نسل قائم و دائم رہینگے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے کہا کہ وندر ڈیم کا منصوبہ ایوب خان کے دور کا تھا لیکن اس وقت یہ منصوبہ کٹائی میں پڑ گیا تھا پھر میں بلوچستان اسمبلی کا اسپیکر تھا اس وقت میں نے دوبارہ وندر ڈیم کے منصوبے کے مسئلے کو اٹھایا اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے آکر وندر ڈیم کا باقائدہ سنگ بنیاد رکھا لیکن ایک مرتبہ معاملہ معزز عدالت میں جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر رک گیا اسکے بعد جو لسبیلہ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوکر وفاقی وزیر بنے لیکن انہوں نے اپنے 5 سال کے دور میں کچھ نہیں کیا لیکن اللہ کے فضل سے جب 2018 کے انتخابات میں مجھے لسبیلہ گوادر کے لوگوں نے منتخب کیا تو ہم نے ایک مرتبہ پھر وندر ڈیم کا کام شروع کروایا جو اس وقت جاری و ساری ہے انہوں نے کہا کہ وندر سمیت لسبیلہ اور حب کی عوام کو بخوبی علم ہے کہ وندر ڈیم کا منصوبہ کس کی کوششوں اور خواہشوں سے شروع ہوا ہے یہ اور بات ہے کچھ لوگوں نے بلوچستان میں حکومت کی کرسی پر بیٹھ کر سرکار کے زور پر یہ کہتے رہے کہ وندر ڈیم کا منصوبہ ہم نے لایا ہے حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ وندر ڈیم منصوبے کا سنگ بنیاد کس نے رکھا اور کس کی کوششوں سے اس منصوبے کا آغاز ہوا انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے بلوچستان میں حکومت کی کرسی پر بیٹھ کر اس وقت جب وندر کے زمینداروں نے میرے حق میں پینا فلیکس لگایا تو وزیراعلی کے دفتر سے اس وقت کے ڈی سی اور دیگر آفیسران کو حکم دیا گیا کہ اسلم بھوتانی کے تصاویر والے بورڈ اکھاڑ دو لیکن انکو یہ پتہ نہیں کہ پیار و محبت سے لوگوں کو جیتا جاتا ہے ڈنڈے کے زور پر نہیں اب جب ان سے کرسی چلی گئی ہے اب سرکاری انکی نہیں اب وہ کسی ڈی سی یا کسی آفیسر کو کہیں نا کہ میرے پینا فلیکس اتار کے دکھائے میں اس وقت کہا تھا کہ یہ سرکاری کی نیلی پیلی بتیوں کے گاڑیوں کے زور پر میرے پینا فلیکس اتار رہے یہ نیلی پیلی بتیوں والی گاڑیاں چلی جائیں گی پھر آکر میرے تصاویر اتار کر دکھانا ٹانگیں نہ توڑ دیں یہ میں آج کے دن کے لیے کہا تھا اب آکر کوئی ہمارے پینا فلیکس اکھاڑے ٹانگوں کے ساتھ ہاتھ پھیر بھی توڑ دینگے انہوں نے کہا کہ اب اس وقت ڈی سی جو ابھی پتہ نہیں کہاں تلانکانگ میں ہے کہا ہے اسکو فوٹو بھیجو بولو آجا میرے وندر ڈیم پر لگے فوٹو اور بورڈز اکھاڑے ایسے نہیں ہوتا حکومت کے زور پر زبردستی کسی کے حقوق غضب نہیں کرسکتے انہوں نے کہا کہ اس دور میں میندیاری میں حکومت کے زور پر زبردستی کرکے غریبوں کی زمینیں دو نمبر کرکے اپنے نام کیے ہیں وہاں نالیاں بنائی ہیں غریبوں کے حقوق چھین کر وہاں سرکاری زمینوں کو اپنے لوگوں کے نام کرکے وہاں یہ جو چینلز بنائی ہیں وہ سب ختم کروائیں گے اور سرکار کی زمین واپس کروائیں گے انہوں نے کہا کہ یہ اندھیری رات محدود وقت کے لیے ہے پھر سروج طلوع ہوتا ہے اب سورج طلوع ہوا ہے اندھیری رات جو ہے وہ گئی انہوں نے اندھیری رات میں بہت کچھ کیا لوگوں کے حقوق پر ڈاکھے ڈالے آج وہ کہاں ہیں پاکستان بھی نہیں ہے کسی کو پتہ نہیں وہ کہاں ہیں انہوں نے کہا کہ وندر ڈیم نے وندر کے زمیندار بہت خوش ہونگے وندر میں ہزاروں ایکڑ زمینیں آباد ہونگی اور وندر ڈیم سے ضلع لسبیلہ اور ضلع حب میں زرعی انقلاب آئیگا اسکے علاوہ وندر ڈیم کے تعمیراتی کام میں بہت سارے مقامی لوگ کام کررہے ہیں البتہ وندر سمیت لسبیلہ اور حب میں تکینکی ماہرین کی کمی کی وجہ سے ڈیم انتظامیہ نے ٹیکنیکل لوگ باہر سے لائے باقی مزدوری میں زیادہ تر لوگ یہاں کے مقامی ہیں کیونکہ ٹیکنیکل لوگ اگر باہر سے نہیں لاتے پھر کل کو تعمیرات میں کمی پیشی کی صورت میں پھر ہمیں تنقید کا سامنا ہوگا ہمارے ہی لوگ پھر شکایت کرینگے کہ ڈیم کی تعمیر میں کوتائی کی گئی اس لیے ٹیکنیکل لوگوں کے علاوہ نچھلے طبقے میں زیادہ تر لوگ مقامی ہیں اگر کسی کو شکایت ہے تو ہمیں بتائے ہم ڈیم انتظامیہ سے بات کرینگے تقریب میں اقلیتی رکن بلوچستان اسمبلی مکھی شام لعل لاسی پی پی کے ضلعی حاجی محمد انور رونجہ پی پی پی قلات ڈویژن کے رہنما محمد شریف پالاری بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما جمیل احمد گچکی جماعت علمائے اسلام کے مرکزی نائب امیر مولانا غلام قادر قاسمی بھوتانی گروپ کے رہنما سابق ڈسٹرکٹ کونسل ممبر ماسٹر غلام رسول انگاریہ میر عبدالواحد عرف میربہادرجاموٹ عالم خان انگاریہ وڈیرہ محمد سلیمان انگاریہ وڈیرہ عبدالستار انگاریہ سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور قبائلی عمائدین کی کثیر تعداد موجود تھی۔


