امریکااوربرطانیہ نے ایران کے اعلیٰ عہدیداروں اور اداروں پرنئی پابندیاں عائد کردیں

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اوربرطانیہ نے عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں مزید ایرانی شخصیات، اعلیٰ عسکری حکام اوراداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں جبکہ یورپی یونین نے بھی نئی پابندیوں کے نفاذ کا عندیہ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایرانی مظاہرین کیخلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کے ردعمل میں پاسداران انقلاب کوآپریٹو فاؤنڈیشن اور دیگر سینئرعہدے داروں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاسداران انقلاب کوآپریٹو فاؤنڈیشن اوراس کے بورڈ کے پانچ ارکان کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اور سیکورٹی کے نائب وزیر کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ سپاہ پاسداران انقلاب کے چار سینئرکمانڈروں پربھی نئی پابندیوں کا نفاذ کیا گیا ہے۔محکمہ خزانہ نے کہا کہ برطانیہ اور یورپی یونین دونوں کے تعاون سے آج کی کارروائی پاسداران انقلاب کے ایک اہم اقتصادی ستون کو نشانہ بناتی ہے، جو ایرانی حکومت کے ظالمانہ جبر کی زیادہ ترمالی اعانت کرتاہے۔ قومی اور صوبائی سطح پر تہران کے کریک ڈان میں تعاون کرنے والے سینئر سیکورٹی حکام بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ محکمہ خزانہ کے انڈر سیکریٹری برائے تخریب کاری اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن نے کہا ہے کہ امریکا انسانی حقوق اور دیگر بنیادی آزادیوں کے مطالبے میں ایرانی عوام کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کرایرانی حکومت کا احتساب کرتے رہیں گے جب تک کہ وہ اپنے عوام پرتشدد، جھوٹے مقدمات، مظاہرین کو پھانسی دینے اور انہیں دبانے کے دیگر طریقوں پر انحصار کرتی رہے گی۔ یہ امریکا کی جانب سے ایرانی شخصیات اور اداروں کیخلاف عائد کردہ پابندیوں کا نواں دور ہے، جس میں ایرانی مظاہرین پر پرتشدد جبر کے ذمہ داروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ محکمہ خزانہ نے کہا کہ پاسداران انقلاب کوآپریٹو فاؤنڈیشن وہ گروپ ہے جو ایرانی معیشت کے شعبوں میں اس فورس کی سرمایہ کاری اور موجودگی کا انتظام کرتی ہے۔ محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ آئی آر جی سی کے اہلکاروں اور ان کے کاروباری مفادات کے لیے ایک سلش فنڈ کے طور پرکام کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں