پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سفارش پر لاپتہ افراد کمیشن کےخلاف کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع
اسلام آباد (انتخاب نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے طیبہ گل ہراسگی کیس میں ڈی جی نیب کی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی میں طلبی،چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن کو عہدہ سے ہٹانے کےلئے پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سفارش کے خلاف درخواستوں پر پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کی سفارش پر چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن کے خلاف کاروائی روکنے کے حکم میں توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔جمعہ کو میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم اور جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی درخواستوں کو یکجا کرکے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے دیکھنا ہے کہ اس نوعیت کا معاملہ دیکھنا پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے دائرہ اختیار میں ہے یا نہیں؟، پٹیشنرز نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کا دائرہ مالی معاملات تک محدود ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا جا سکتا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ کیا پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کل کو قتل کیس کی انکوائری بھی کرے گی؟، ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے ملازمین کو پی اے سی نے بحال کیا تھا، سابق چیف جسٹس نے فیصلہ دیا کہ یہ پی اے سی کا اختیار نہیں تھا،سوال صرف یہ ہے کہ کیا پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی ہراسمنٹ کا معاملہ دیکھ سکتی ہے؟، کوئی ادارہ دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتا، کیا کل کو پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی نور مقدم قتل کیس میں ظاہر جعفر کو بلا کر پوچھ سکتی ہے کہ تم نے مارا تھا یا نہیں؟،پارلیمنٹ کا کام قانون سازی اور جوڈیشری کا کام اس کی تشریح کرنا ہے،ایگزیکٹو جوڈیشری اور جوڈیشری ایگزیکٹوز کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتی، چیف جسٹس بننے کے بعد پتہ چلا کہ بے تحاشا چٹھیاں آتی ہیں،سکھر سے درخواست آتی کہ میٹر اتار کر لے گئے ہیں، نوابشاہ سے درخواست آتی ہے کہ بچے کو لے گئے ہیں،اگر پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کو کوئی چٹھی آ بھی گئی تھی تو انہیں وہ متعلقہ فورم کو بھجوانی چاہیے تھی،مالی بے قاعدگیوں پر بھی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی خود سزا نہیں دے سکتی بلکہ معاملہ انکوائری کے لیے بھجوائے گی، پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے وکیل حافظ ایس اے رحمان نے کہاکہ میرے دلائل بھی آج ہی سن لیں، پتہ نہیں اگلی سماعت پر میں ہوں یا نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ بزرگ اور ہمارے لیے محترم ہیں، ایسی بات نہ کریں،موت کا وقت معین ہے، کسی وقت بھی آ سکتی ہے، بہتر ہے کہ کام کرتے ہوئے آئے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک کیلئے ملتوی کر دی۔


